کھٹمنڈو: نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران پاکستانی ریپر طلحہ انجم کی جانب سے بھارتی پرچم لہرانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کنسرٹ کے دوران طلحہ انجم نے خیرسگالی اور دوستی کے اظہار کے طور پر بھارتی پرچم لہرایا اور بعدازاں اسے اپنے کندھوں پر بھی اوڑھ لیا، جب کہ اسٹیج پر موجود ان کے ساتھی گلوکار طلحہ یونس نے نیپالی پرچم اٹھا کر مقامی مداحوں کا شکریہ ادا کیا۔
View this post on Instagram
مذکورہ کنسرٹ کی ویڈیوز وہاں موجود سامعین کی جانب سے سوشل میڈیا پر تیزی سے شیئر کی گئیں، جب کہ سامعین نے دعویٰ کیا کہ گلوکار کا یہ اقدام مختلف ممالک سے آئے ہوئے شرکا کے احترام اور امن و دوستی کا پیغام دینے کے لیے کیا گیا تھا۔تاہمطلحہ انجم انڈین پرچم لہرانے پر اپنے ملک میں بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کی زد میں ہیں۔
طلحہ انجم کا یہ عمل سوشل میڈیا پر اس لیے بھی توجہ کا مرکز بن گیا، کیونکہ رواں سال مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جھڑپ کے بعد بھارت میں پاکستانی فنکاروں اور چینلز کا بائیکاٹ جاری ہے۔ جبکہ انسٹاگرام اور یوٹیوب پر طلحہ انجم اور ’ینگ سٹنرز‘ میں ان کے ساتھی گلوکار طلحہ یونس کے اکاؤنٹس پر پابندی عائد کی گئی ہے
دوسری طرف طلحہ نے اپنے دفاع میں کہا ہے کہ میرے دل میں نفرت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ میرے آرٹ کی کوئی سرحدیں نہیں ہیں۔اگر میری طرف سے انڈین پرچم لہرانے پر تنازع کھڑا ہوتا ہے تو ہوتا رہے۔ میں ایسا دوبارہ کروں گا۔ میں کبھی میڈیا، جنگی جنون میں مبتلا حکومتوں اور ان کے پروپیگنڈا کی فکر نہیں کروں گا۔اردو ریپ کی کوئی سرحد نہیں اور ہمیشہ ایسا ہی رہے گا۔
عاصمہ شوکت نامی صارف نے لکھا کہ آپ سب کی توجہ کے طلب گار ہیں جبکہ منصور احمد قریشی نے کہا کہ شاید آرٹ کی کوئی سرحد نہیں لیکن عوامی رائے کی ضرور ہے۔دانش امین نے طنز کیا جنگ تو ہوتی رہے گی ہمارے گانے نہیں رُکنے چاہییں۔ان کے دفاع میں نواب اسد جٹ نے کہا کہ کسی ملک کا پرچم لہرانا آپ کو پاکستان مخالف نہیں بناتا۔
یاسر نے کہا کہ ایک انڈین شہری کے طور پر میں آپ کی ہمت کو داد دیتا ہوں۔۔۔ لیکن مجھے افسوس ہوا کہ کچھ پاکستانی نفرت کو ابھار رہے ہیں۔شریجان پرساد نے کہا کہ یہ منافقت اس وقت واضح ہوتی ہے جب دونوں ملک آپس میں کرکٹ میچ کھیلتے ہیں۔


