امریکا نے ایران کی معاونت کرنے اور اسے عالمی پابندیوں سے بچا کر تیل کی فروخت سے مالی حاصلات فراہم کرنے کے الزام میں بھارت اور ترکیہ سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد اور کمپنیوں پر نئی کڑی اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ کارروائی ایران کے تیل کی برآمدات کو صفر پر لانے اور اس کی مالیاتی آمدنی کے ذرائع کو مسدود کرنے کی امریکی مہم کا حصہ ہے۔ امریکی حکام نے بھارتی شہری سنیل کمار شرما، ان کی اہلیہ جسپریت پریتی شاہد، ان سے وابستہ نیٹ ورک کے دیگر افراد اور 9 کاروباری اداروں کو پابندیوں کی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا ہے۔ یہ نیٹ ورک ایرانی تیل منتقل کرنے والے متنازع بحری جہازوں کو جعلی قومی پرچم، رجسٹریشن دستاویزات اور جعلی سرٹیفکیٹس فراہم کرتا تھا تاکہ وہ بین الاقوامی پابندیوں کو چکمہ دے کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔
اس کے علاوہ امریکا نے ترکیہ کی معروف کمپنی ‘فوگو گراؤنڈ سروسز’ پر بھی پابندی عائد کی ہے، جس پر ایران کی پابندیوں کا شکار ایئرلائنز کو زمینی خدمات (Ground Handling) فراہم کرنے کا الزام ہے۔ امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے واضح کیا کہ واشنگٹن انتظامیہ ایران کو لاجسٹک یا مالی سہولت فراہم کرنے والے عناصر کے خلاف زمینی، سمندری اور فضائی ہر محاذ پر کارروائیاں جاری رکھے گی۔
پابندیوں کے باوجود ایران کی مدد پر بھارتی جوڑے ، ترک کمپنیوں پر پابندی عائد

