واشنگٹن:
سیاسی تجزیہ کاروں اور ماہرینِ قانون کے مطابق اگر امریکی وسط مدتی انتخابات (Midterm Elections) میں ڈیموکریٹک پارٹی کانگریس کا کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو نو منتخب ٹرمپ انتظامیہ کو شدید قانونی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کانگریس میں اکثریت ملنے کی صورت میں ڈیموکریٹس کے پاس اہم پارلیمانی کمیٹیوں کی سربراہی آ جائے گی، جس کے ذریعے وہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں، مالی معاملات اور حکومتی امور پر کڑی نظر رکھنے کے لیے باضابطہ تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر سکتے ہیں۔
-
ڈیموکریٹک قانون سازوں کو یہ اختیار حاصل ہو جائے گا کہ وہ انتظامیہ سے اہم سرکاری دستاویزات طلب کریں اور متعلقہ حکومتی عہدیداروں کو کمیٹیوں کے سامنے پیش ہونے پر مجبور کریں۔
-
کانگریس کی مخالفت کے باعث صدر ٹرمپ کے لیے اہم ترقیاتی یا دفاعی بجٹ کی منظوری اور من مانی قانون سازی کرانا انتہائی کٹھن ہو جائے گا۔
-
سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی اکثریت کی صورت میں صدر کی جانب سے کی جانے والی اہم وفاقی نامزدگیوں، سفیروں اور ججوں کی تقرریوں کو تاخیر کا شکار کرنے یا روکنے کا موقع مل سکے گا۔
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کو روایتی طور پر برسرِ اقتدار صدر کی پالیسیوں پر عوامی ریفرنڈم اور واشنگٹن میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کا ایک اہم ترین ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

