لاہور : وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کنئیرڈ کالج کے کانووکیشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے باصلاحیت اور روشن مستقبل کی حامل طالبات، ان کے والدین اور اساتذہ کو مبارکباد پیش کی ہے۔ تقریب کے دوران وزیراعلیٰ نے خاص طور پر ماؤں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اپنی بیٹیوں کے لیے تالیاں بجاتے دیکھ کر ان کی آنکھیں نم اور دل فخر سے بھر گیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے طالبات کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم وہ قوت ہے جو معاشرے میں عدم مساوات کو ختم کرتی ہے۔
”تعلیم سب سے بڑی برابری پیدا کرنے والی قوت ہے۔ یہ نہ صرف مالی پس منظر کی تفریق کم کرتی ہے بلکہ آپ کو یہ یقین بھی دیتی ہے کہ آپ کسی سے کم نہیں۔ اپنی تعلیم کو صرف اپنی ذات تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے دوسری خواتین کو بااختیار بنانے کا ذریعہ بنائیں۔“پ کو ہر روز خود سے کہنا ہے کہ آپ یہ کر سکتی ہیں اور ان شاء اللہ ضرور کریں گی۔ کسی کو یہ فیصلہ نہ کرنے دیں کہ آپ کی زندگی کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا اور شادی کرنا ہے۔ کامیابی کا کوئی صنفی تعین نہیں، لیکن خواتین کو پیشہ ورانہ زندگی کے ساتھ گھر اور خاندان کی ذمہ داریاں بھی نبھانا پڑتی ہیں۔ اس کے لیے محنت درکار ہے، مگر ایک اچھی ماں، بیٹی اور پروفیشنل کے طور پر آپ کی کامیابی اثر ضرور دکھاتی ہے۔ خود پر یقین رکھیں۔
مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ آپ نے اپنی دوستوں، ساتھی طالبات اور ایک دوسرے کی کامیابیوں کو اپنی کامیابی سے بڑھ کر سراہا۔ یہی رویہ آپ کو درست راستے پر لے کر جاتا ہے۔ پہلی خاتون وزیراعلیٰ ہونے کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ مجھے ہر روز بہت سی خواتین کو بااختیار بنانے، ان کے لیے آگے بڑھنے کے مواقع پیدا کرنے اور انہیں اپنے قدموں پر کھڑا ہونے میں مدد دینے کا موقع ملتا ہے۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف
— PMLN (@pmln_org) October 20, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ زندگی میں چیلنجز ضرور آئیں گے، لیکن حوصلے کے ساتھ ایک وقت میں ایک مسئلے کو حل کرتے ہوئے قدم بہ قدم آگے بڑھیں، منزل ان شاء اللہ ضرور ملے گی۔
پہلی خاتون وزیراعلیٰ ہونے کے ناطے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے مریم نواز شریف نے کہا کہ مجھے ہر روز خواتین کے لیے آگے بڑھنے کے مواقع پیدا کرنے اور انہیں اپنے قدموں پر کھڑا ہونے میں مدد دینے کا موقع ملتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم ان کے لیے ”ریڈ لائن“ ہیں۔پنجاب میں خواتین کا سکوٹیز، رکشے اور کیب چلانا اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبے میں محفوظ ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔
حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ خواتین کو ایسا ماحول دے جہاں وہ بلا خوف تعلیم، پیشہ ورانہ ترقی اور ذاتی زندگی کے لیے آگے بڑھ سکیں۔
معاشرتی رویوں پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب لڑکے بڑے خواب دیکھتے ہیں تو اسے ”ambition“ کا نام دیا جاتا ہے، لیکن جب لڑکیاں عزم کریں تو ان پر تنقید کی جاتی ہے۔
”میں چاہتی ہوں کہ آپ خود پر یقین رکھیں اور کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ دیں کہ کوئی کام آپ کے لیے نہیں ہے۔ کامیابی کا تعلق جنس سے نہیں بلکہ محنت اور صلاحیت سے ہے۔ اگرچہ گھر اور پروفیشنل زندگی کو ایک ساتھ سنبھالنا مشکل ہے، لیکن مسلسل محنت کا صلہ ضرور ملتا ہے۔ کبھی گھبرائیں نہیں، آپ سب کچھ کر سکتی ہیں۔“
Never underestimate a girl with a book, a woman with a purpose, or a generation of women who have decided that their voices will be heard.
Pakistan is our country, our motherland. The beautiful national song you sang today truly moved me to tears. Pakistan has brought you to where you are today, and this glorious homeland deserves our loyalty, our efforts, and our commitment. Whatever you do, always keep Pakistan and your parents in mind.
— PMLN (@pmln_org) October 20, 2026
تقریب کے اختتام پر وزیراعلیٰ پنجاب نے کانووکیشن میں ڈگریاں اور اعزازت حاصل کرنے والی تمام ”چیمپئنز“ اور ان کے والدین بالخصوص ان کے خوابوں پر یقین رکھنے والی ماؤں کا شکریہ ادا کیا اور ان کی جدوجہد کو سراہا۔

