تحریر ریاض ابوالخیل
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
شانگلہ کے سرسبز پہاڑ، نیلگوں آسمان، بہتے چشمے اور حسین وادیاں دیکھنے والے کو جنت کا گمان دلاتی ہیں، مگر انہی پہاڑوں کے دامن میں بسنے والے بے شمار خاندانوں کی تقدیر میں خوشحالی نہیں، بلکہ ہجرت، مشقت اور المیے لکھ دیے گئے ہیں۔ یہ علاقہ قدرتی حسن سے مالا مال اور سیاحت کے لیے نہایت موزوں ہے، لیکن صنعتوں، کارخانوں اور روزگار کے مواقع کی عدم موجودگی نے یہاں کے نوجوانوں کو سینکڑوں میل دور بلوچستان کی کوئلہ کانوں کا رخ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
یہ ایک ایسا درد ہے جو بار بار دہرایا جا رہا ہے۔
سن 2009 میں سیوریج کے علاقے میں کوئلہ کان بیٹھنے سے 42 محنت کش اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس سانحے کے زخم ابھی پوری طرح مندمل بھی نہ ہوئے تھے کہ 2019 میں نورالائی کی کانوں میں اسی علاقے کے 19 نوجوان ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔ اور اب ایک اور قیامت ٹوٹ پڑی ہے، جہاں 23 مزید محنت کش لقمۂ اجل بن گئے۔
یہ صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ بکھرے ہوئے خواب، اجڑے ہوئے آنگن، سونی مائیں، بے سہارا بچے اور عمر بھر کی جدائی کی داستانیں ہیں۔
اس حالیہ سانحے میں ایک ہی گھر کے تین بھائی اور ایک چچا ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے، جبکہ دیگر کئی خاندانوں نے بھی اپنے عزیز کھو دیے۔ چند لمحوں میں کئی گھروں کے چراغ گل ہو گئے، کئی ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں، کئی بچوں کے سروں سے باپ کا سایہ اٹھ گیا اور کئی بہنوں کے سروں سے بھائیوں کی شفقت چھن گئی۔
کتنی افسوس کی بات ہے کہ ایک طرف قبریں کھودنے والوں کی کمی واقع ہوٸی ارد گرد کے دیہاتوں سے قبریں کھودنے کے لیے اعلانات کرکے لوگوں کو بلاٸے گٸے تو دوسری طرف دفنانے کےلیے جگہ بھی کم پڑ گٸی ۔ شانگلہ کے نوجوان روزگار کی تلاش میں زندہ سلامت گھروں سے نکلتے ہیں، لیکن افسوس کہ اکثر ان کی واپسی مسکراتے چہروں کے ساتھ نہیں بلکہ کفن میں لپٹی لاشوں کی صورت میں ہوتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ روزی کمانے نہیں بلکہ موت سے ملاقات کے لیے روانہ ہوتے ہیں۔ وہ کوئلہ نکالنے جاتے ہیں، مگر اکثر خود "کوئلہ” بن کر واپس آتے ہیں۔
یہ المیہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی کا آئینہ ہے۔ اگر شانگلہ جیسے خوبصورت اور وسائل سے بھرپور علاقے میں صنعتیں قائم ہوتیں، سیاحت کو فروغ دیا جاتا، چھوٹے بڑے کارخانے لگائے جاتے اور نوجوانوں کے لیے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کیے جاتے تو شاید آج اتنے گھر اجڑنے سے بچ جاتے۔
وقت آ گیا ہے کہ حکومت محض تعزیتی بیانات تک محدود نہ رہے، بلکہ شہداء کے لواحقین کے لیے معقول مالی امداد، بچوں کی تعلیم، بیواؤں کی کفالت اور مستقل روزگار کے منصوبوں کا اعلان کرے۔ ساتھ ہی شانگلہ جیسے پسماندہ مگر قدرتی حسن سے مالا مال علاقوں کی ترقی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ کسی ماں کو اپنے بیٹے کو رزق کی تلاش میں موت کی کانوں کی طرف نہ بھیجنا پڑے۔
اللہ تعالیٰ تمام شہداء کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور ہمارے حکمرانوں کو اس مسلسل انسانی المیے کے مستقل حل کے لیے عملی اقدامات کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔



