تحریر :اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

کہا جاتا ہے کہ جب اس کے خلاف کارروائی ہوئی تو کئی ایسے نام بھی سامنے آئے جو کبھی منظرِ عام پر آنے کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے۔ ایک ایمانداری کی وجہ سے مشہور سینئر پولیس افسر کے بارے میں بھی یہ دعویٰ سامنے آیا کہ ان سے متعلق ڈبل شاہ نے نیب حراست میں بتایا کہ یہ ایماندار پولیس افسر نے اسے 95 لاکھ کی خطیر رقم ڈبل کرنے کے لئے دی ، مگر جب متعلقہ افسر کو سمن کیا پوچھ گچھ ہوئی تو انہوں نے اس کی تردید کر دی اور پھر اس افسر سے تحریری بیان لیکر معاملہ وہیں ختم کر دیا گیا۔ سچ کیا تھا، اس کا فیصلہ تاریخ پر چھوڑ دیتے ہیں، لیکن ایک حقیقت آج بھی زندہ ہے کہ فراڈیے صرف عام آدمی کو نہیں، بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگوں کو بھی خواب بیچ دیتے ہیں۔ ڈبل شاہ نے کتنے لوگوں کو دھوکہ دیا، کتنے پڑھے لکھے، تجربہ کار اور بااختیار لوگ دھوکہ کھانے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ شائد تاریخ نے دوبارہ ڈبل نہیں بلکہ ٹرپل ورک کو دہرایا جس کے بارے دعوی کیا جا رہا ہے کہ 27 یا 45 ارب کا فراڈ کر کے آرام سے روانہ ہو گیا ۔ دوسری طرف پولیس میں ایک پرانی کہاوت مشہور ہے کہ "مجھاں مجھاں دیاں پیناں ہوندیاں نے”، یعنی بیج میٹ ایک دوسرے کا ہمیشہ ساتھ دیتے ہیں۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ ہر کہاوت ہمیشہ سچ نہیں ہوتی۔ ایک رینکر افسر جب ضلع کا ڈی پی او بنا تو اس کے ایک بیج میٹ نے صرف ایک اہلکار کی پوسٹنگ کی سفارش کر دی۔ سفارش ایسی بھی نہیں تھی کہ قانون ٹوٹ جاتا، لیکن ڈی پی او نے اسے اپنی خودمختاری پر حملہ سمجھا۔ اہلکار کے سامنے ہی سخت وارننگ دے دی کہ آئندہ سفارش کرائی تو ملازمت خطرے میں پڑ جائے گی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سفارش کرنے والا بھی شرمندہ ہوا اور سفارش کروانے والا بھی۔
اگر سفارش اتنی ہی ناقابلِ برداشت تھی تو پھر وہ افسر خود کس دوسرے صوبے کے اعلی افسر کی سفارش پر اس کرسی تک پہنچا؟ اگر تقرریاں صرف میرٹ پر ہوتی ہیں تو سفارش کا غصہ صرف کمزور اہلکار پر کیوں اترتا ہے؟
افسوس یہ ہے کہ ہمارے نظام میں بعض اوقات اصول بھی عہدے دیکھ کر بدل جاتے ہیں۔ بڑے لوگوں کی سفارش "اعتماد” کہلاتی ہے اور چھوٹے لوگوں کی سفارش "مداخلت اسی لیے سابق آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کا انداز آج بھی مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ اہم تقرریوں سے پہلے افسر کا ریکارڈ دیکھا جاتا تھا، فیلڈ سروس کو اہمیت دی جاتی تھی اور اگر کوئی اچھا فیلڈ افسر دفتر میں آنے کی خواہش کرتا تو اسے واضح پیغام دیا جاتا کہ بہترین افسر کی اصل جگہ میدانِ عمل ہے، نہ کہ ائیرکنڈیشنڈ دفتر۔ نظام افراد سے نہیں، اصولوں سے مضبوط ہوتا ہے۔ جب اصول سفارش کے تابع ہو جائیں تو پھر ڈبل شاہ صرف بازاروں میں نہیں، اداروں کے اندر بھی جنم لیتے رہتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ ایک عوام کی جیب خالی کرتا ہے اور دوسرا اداروں کا اعتماد۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ فراڈ ہمیشہ عقل کی کمی سے نہیں، خواہش کی زیادتی سے جنم لیتا ہے۔

