تحریر: مہتاب نصیر اعوان
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
اس تحریر کا مقصد کسی فردِ واحد یا ادارے پر بلاجواز تنقید نہیں، بلکہ ایک ایسی تلخ حقیقت کی نشاندہی ہے جسے ہزاروں لوگ ہر بارش میں بھگتتے ہیں۔
ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی کا اصل ترازو یہ نہیں کہ ان پر کتنے کروڑ خرچ ہوئے، بلکہ یہ ہے کہ عوام کی زندگی میں کتنی آسانی آئی۔ اگر بھاری فنڈز خرچ ہونے کے بعد بھی ہر سال وہی پرانا عذاب مسلط ہو جائے، تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخر یہ کیسی منصوبہ بندی تھی؟؟؟
دلجبہ سیکٹر جسے علاقہ غزہ شاہ مراد بھی کہا جاتا ہے، پچھلے کچھ عرصے سے سڑکوں اور پلوں کی بحالی کے کاموں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ گھنوال، ترمنی اور گردونواح میں آمدورفت آسان بنانے کے لیے کاز ویز تو بنا دیے گئے ہیں، بظاہر یہ ایک سہولت ہے، لیکن کیا واقعی اس کا کوئی فائدہ ہوا؟؟؟ حقیقت یہ ہے کہ ہر مون سون کی بارش کے بعد یہ کاز ویز پانی میں ڈوب جاتے ہیں، راستے کٹ جاتے ہیں اور لوگوں کی زندگیاں ایک بار پھر وہیں کھڑی ہو جاتی ہیں جہاں برسوں پہلے تھیں۔
علاقہ مکینوں کے لیے یہ کوئی نیا تماشا نہیں۔ آسمان پر بادل آتے ہی انہیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ اب ان کا رابطہ باقی دنیا سے کٹنے والا ہے۔ کوئی بیمار ہو جائے تو اسے ہسپتال لے جانا محال ہو جاتا ہے، بچوں کے سکول کالج چھوٹ جاتے ہیں، نوکری پیشہ افراد دفتر نہیں پہنچ پاتے اور کسانوں کی فصلیں منڈیوں تک نہیں جا سکتیں۔ چند گھنٹوں یا دنوں میں پانی تو اتر جاتا ہے، لیکن اپنے پیچھے ایک سلگتا ہوا سوال چھوڑ جاتا ہے کہ آخر اس عذاب کا مستقل حل کب نکلے گا؟
بحث اس بات پر نہیں کہ کام کیوں ہوا، دکھ اس بات کا ہے کہ وسائل کا درست استعمال کیوں نہیں ہوا؟ کیا ان مخصوص مقامات پر کاز ویز ہی بہترین حل تھے؟ اگر انہی کروڑوں روپوں سے برساتی نالوں کے قدرتی بہاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے پختہ اور اونچے پل بنا دیے جاتے، تو کیا آج ہر بارش میں یہ علاقے یوں کٹ کر رہ جاتے؟ چکوال جیسے بارانی ضلع میں، جہاں برساتی نالے دیکھتے ہی دیکھتے بپھر جاتے ہیں، وہاں ایسی سطحی منصوبہ بندی سمجھ سے بالاتر ہے۔
لوگ بجا طور پر پوچھتے ہیں کہ کیا ان منصوبوں سے پہلے کوئی سروے کیا گیا تھا؟ کیا پانی کے بہاؤ اور مستقبل کی موسمیاتی تبدیلیوں کو ذہن میں رکھا گیا تھا؟ اگر ہاں، تو پھر ہر سال یہ ڈوبتے کاز ویز کس کی خامی کا ثبوت ہیں؟
یہ علاقہ، جس میں گھنوال اور ترمنی جیسے دیہات شامل ہیں، پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 21 کا حصہ ہے، جہاں کی نمائندگی ملک تنویر اسلم اعوان سیتھی کر رہے ہیں۔ وہ ماضی میں پنجاب کے وزیرِ مواصلات و تعمیرات جیسے اہم منصب پر بھی فائز رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب علاقے میں سڑکوں اور پلوں کا ذکر آتا ہے، تو عوام بجا طور پر اپنے منتخب نمائندے کی طرف دیکھتے ہیں۔ انہیں بجا طور پر یہ توقع ہے کہ ان کے مسائل پر وقتی مرہم رکھنے کے بجائے ایسا پائیدار کام کیا جائے گا جو آنے والی نسلوں کے بھی کام آئے۔
ترقیاتی کاموں پر سوال اٹھانا محض تنقید نہیں، بلکہ وسائل کے درست اور بہتر استعمال کا عوامی مطالبہ ہے۔ متعلقہ اداروں پر لازم ہے کہ وہ شفاف انداز میں اپنی منصوبہ بندی سے عوام کو آگاہ کریں تاکہ اعتماد بحال ہو سکے۔
ترقی صرف فیتہ کاٹنے، تختیوں پر نام لکھوانے یا اخبارات کی سرخیوں کا نام نہیں ہوتی۔ حقیقی ترقی وہ ہے جو برسات کے دنوں میں بھی ایمبولینس کا راستہ نہ روکے، جو کسان کی محنت کو ڈوبنے نہ دے اور جو کسی شہری کو یہ خوف نہ دے کہ دو گھنٹے کی بارش اسے دنیا سے کاٹ دے گی۔
دلجبہ سیکٹر کے عوام کا مطالبہ نہ تو غیر معمولی ہے اور نہ ہی ناجائز۔ وہ وقتی تسلیوں کے بجائے مستقل اور پائیدار پل چاہتے ہیں تاکہ ہر سال انہیں ایک ہی اذیت سے نہ گزرنا پڑے۔ عوام آج بھی اس جواب کے منتظر ہیں جو محض بیانات کی حد تک نہ ہو، بلکہ زمین پر عملی شکل میں نظر آئے۔ ایسی ترقی، جس کے بعد بارش تو آئے، پانی گزر بھی جائے، مگر زندگی کا پہیہ جام نہ ہو۔


