Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر ائیر انڈیا کا پائلٹ معطل

      گوگل کا نیا سمارٹ اسپیکر میدان میں: جیمنائی (Gemini) کی طاقت اور جدید ڈیزائن کے ساتھ پیشکش

      میٹا کا ٹیکنالوجی اور فیشن کا حسین امتزاج: نئی ’میٹا گلاسز‘ 26 اسٹائلز کے ساتھ متعارف

      دنیا کی تاریخ میں پہلی بار اے آئی وکیل نے مقدمہ جیت لیا

      بدل گیا انفوٹیمنٹ کا جہاں ، سام سنگ ٹی وی میں انسٹا گرام ٹی وی ویب متعارف، کون سے انوکھے فیچرز متعارف کرائے گئے جانئیے!

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    غازی کی سرحدی پوسٹ پر تعیناتی اور تھانیدار کی ویڈیو، نظام کے دو چہرے

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
    پنجاب پولیس ایک ایسا ادارہ ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ اس فورس کے شہدا اور غازی صرف پولیس کا نہیں بلکہ پوری قوم کا سرمایہ ہیں۔ سابق آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کے دور میں شہدا کے ورثا کے لیے نئے گھروں کی فراہمی، غازیوں اور پولیس اہلکاروں کے لیے ویلفیئر فنڈز، علاج، بچوں کی شادی اور دیگر ضروریات میں مالی معاونت جیسے اقدامات اس سوچ کی عکاسی کرتے تھے کہ فورس کی قربانیوں کو صرف الفاظ نہیں بلکہ عملی اقدامات سے خراجِ تحسین پیش کیا جائے۔
    لیکن انہی مثبت اقدامات کے درمیان بعض فیصلے کئی سوالات بھی جنم دیتے ہیں۔ حال ہی میں اٹک ایلیٹ فورس کے ایک غازی، قمر نواز، کو میانوالی کی سرحدی پوسٹ پر تعینات کیے جانے کے احکامات سامنے آئے۔ اگر یہ فیصلہ درست ہے تو متعلقہ افسران کو وضاحت کرنی چاہیے کہ کیا ایک غازی، جس نے پہلے ہی دہشت گردی کے خلاف لڑتے ہوئے قربانی دی، اس کی تعیناتی کے لیے کوئی خصوصی پالیسی موجود نہیں؟ اگر یہ ایک انفرادی فیصلہ ہے تو اس کا جائزہ لیا جانا چاہیے، کیونکہ ایسے اقدامات فورس کے اندر بے چینی پیدا کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب شیخوپورہ میں ایک تھانیدار کی مبینہ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد اسے معطل کر کے تحقیقات کا حکم دیا گیا۔ بظاہر کارروائی فوری ہوئی، لیکن اصل سوال ایک فرد نہیں بلکہ نظام کا ہے۔ اگر کوئی پولیس افسر کسی غیر قانونی سرگرمی سے منسلک ہونے کے الزامات کی زد میں آتا ہے تو اس سے صرف اس کی ساکھ متاثر نہیں ہوتی بلکہ پورے محکمہ پولیس کی نگرانی، احتساب اور شفافیت پر سوال اٹھتے ہیں۔
    لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز، فارم ہاؤسز، نام نہاد مساج سینٹرز اور دیگر مقامات کے بارے میں وقتاً فوقتاً غیر قانونی سرگرمیوں کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ اگر یہ الزامات درست ہیں تو سوال یہ ہے کہ ایسے مراکز برسوں تک کیسے چلتے رہتے ہیں؟ بعض حلقوں کی جانب سے یہ دعوے بھی کیے جاتے ہیں کہ بعض کارروائیاں محض نمائشی ہوتی ہیں، جبکہ اصل مقصد کسی مبینہ مفاہمت یا انتظام کا حصہ بن جاتا ہے۔ اگر ایسے دعوے بے بنیاد ہیں تو انہیں شفاف تحقیقات سے غلط ثابت کیا جانا چاہیے، اور اگر ان میں حقیقت ہے تو پھر بلاامتیاز احتساب ناگزیر ہے۔ عوام کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ جب ان کے ساتھ ظلم، زیادتی یا ناانصافی ہوتی ہے تو وہ انصاف کے لیے اسی پولیس کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔ ایسے میں اگر محافظ ہی الزامات کی زد میں آ جائیں تو عوام کے اعتماد کو شدید دھچکا پہنچتا ہے۔ ماضی میں بھی مختلف انکوائریوں، خفیہ رپورٹس اور احتسابی کارروائیوں کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہ فائلوں میں دب کر رہ گئیں۔ سوال آج بھی وہی ہے: کتنے اہلکاروں کو سزا ملی؟ کتنے بے نقاب ہوئے؟ کتنے دوبارہ اپنے عہدوں پر واپس آ گئے؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا ان واقعات سے نظام نے کوئی سبق سیکھا؟ پنجاب پولیس ایک عظیم ادارہ ہے، جس کی بنیاد ہزاروں شہدا اور غازیوں کے خون پر کھڑی ہے۔ اسی لیے اس ادارے کو چند افراد کے مبینہ کردار کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ شہدا کی عزت صرف یادگاریں بنانے سے نہیں، بلکہ ایک ایسا احتسابی نظام قائم کرنے سے برقرار رہتی ہے جہاں وردی قانون سے بالاتر نہ ہو، جہاں غازیوں کا احترام عملی فیصلوں میں نظر آئے، اور جہاں عوام کو یقین ہو کہ انصاف صرف عام شہری کے لیے نہیں بلکہ پولیس کے اپنے احتساب پر بھی یکساں لاگو ہوتا ہے۔

    Related Posts

    نئی مصنوعی ادویات، کوکین اور میتھ کے استعمال میں پہلے سے پانچ گنا اضافہ

    ہمسایہ ممالک میں اسرائیلی طیاروں کی مشکوک پروازیں، خطرہ ہوا تو ایران کا جواب سخت ہوگا، پاسداران انقلاب

    دنیا کے 10 سب سے بڑے زلزلوں پر ڈالیں ایک نظر، کہاں کتنی تباہی مچی؟

    مقبول خبریں

    نئی مصنوعی ادویات، کوکین اور میتھ کے استعمال میں پہلے سے پانچ گنا اضافہ

    غازی کی سرحدی پوسٹ پر تعیناتی اور تھانیدار کی ویڈیو، نظام کے دو چہرے

    ہمسایہ ممالک میں اسرائیلی طیاروں کی مشکوک پروازیں، خطرہ ہوا تو ایران کا جواب سخت ہوگا، پاسداران انقلاب

    دنیا کے 10 سب سے بڑے زلزلوں پر ڈالیں ایک نظر، کہاں کتنی تباہی مچی؟

    فیفا عالمی کپ 2026: معروف کھلاڑیوں نے اپنی اہمیت ثابت کر دی

    بلاگ

    غازی کی سرحدی پوسٹ پر تعیناتی اور تھانیدار کی ویڈیو، نظام کے دو چہرے

    انسان کو بیدار تو ہو لینے دو، ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؑ

    گرتی ہوئی دیواروں کو سہارا دیجئے!

    ’’سنہری موقع‘‘ میاں حبیب کا کالم

    نسخے کو متنازع بنا کر ڈاکٹر کے اختیار کو کمزور نہ کریں

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.