واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بل پلٹی (Bill Pulte) کو نیشنل انٹیلیجنس کا قائم مقام ڈائریکٹر مقرر کرنے کے فیصلے پر سیاسی اور میڈیا حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ یہ تقرری تُلسی گبارڈ کے مستعفی ہونے کے بعد کی گئی ہے، جنہوں نے اپنے شوہر کی علالت کے باعث گزشتہ ماہ اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے کا اعلان کیا تھا۔
بل پلٹی کون ہیں؟
بل پلٹی، جو اس سے قبل فیڈرل ہاؤسنگ فنانس ایجنسی کے سربراہ تھے، اب امریکی انٹیلیجنس اداروں کی نگرانی کریں گے۔ ان کی تقرری کو جہاں ریپبلکن حلقوں میں سراہا جا رہا ہے اور اسے "ڈیپ اسٹیٹ” کے خلاف ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف اسے سخت تنقید کا بھی سامنا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے ادارتی بورڈ نے اس تقرری پر ایک تند و تیز اداریہ شائع کیا ہے جس میں بل پلٹی کی اہلیت پر شدید سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اخبار نے اپنے اداریے میں لکھا بل پلٹی کے پاس قومی سلامتی کے شعبے میں کام کرنے کا کوئی معروف تجربہ نہیں ہے، جس کی وجہ سے وہ انٹیلیجنس اداروں کی نگرانی کے لیے غیر موزوں ہیں۔ اخبار کا دعویٰ ہے کہ پلٹی کی واحد قابلیت صدر کے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی خواہش ہے۔
اداریے میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایک ایسے شخص کو حساس خفیہ معلومات تک رسائی دینا، جو اس شعبے کا ماہر نہیں، قومی سلامتی اور قانون کی حکمرانی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بل پلٹی (Bill Pulte) کو ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس (DNI) نامزد کرنے کے فیصلے نے امریکی سینیٹ میں ایک نیا سیاسی بحران کھڑا کر دیا ہے۔ یہ تقرری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کا اہم ترین جاسوسی قانون، یعنی ’فارن انٹیلیجنس سرویلنس ایکٹ‘ (FISA) کی شق 702، 12 جون کو ختم ہونے جا رہی ہے
سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے ساتھ ساتھ خود ریپبلکن پارٹی کے کئی سینیٹرز بھی ان کی تقرری پر شدید نالاں ہیں۔ سینیٹر مارک وارنر اور دیگر قانون سازوں کا کہنا ہے کہ پلٹی کا ریکارڈ رہا ہے کہ انہوں نے اپنے عہدوں کو صدر ٹرمپ کے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا ہے، جس سے خدشہ ہے کہ وہ انٹیلیجنس اداروں کو بھی "سیاسی ہتھیار” کے طور پر استعمال کریں گے۔
ایف آئی ایس اے (FISA) کا انخلا:
امریکی حکومت کے لیے یہ قانون 12 جون تک توسیع کروانا لازمی ہے، جس کے لیے سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی حمایت درکار ہے۔ اپوزیشن اب اس قانون کی منظوری کو بل پلٹی کی برطرفی سے مشروط کر رہی ہے۔
سینیٹ میں ریپبلکن لیڈر جان تھون اور مچ میک کونل جیسے قدآور رہنماؤں نے بھی پلٹی کی اہلیت پر کھل کر تنقید کی ہے۔ سینیٹر تھوم ٹلس نے بھی ان کی تقرری کو بدترین قرار دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بل پلٹی ایک بہترین انتخاب ہیں۔ حکومتی ترجمان نے ڈیموکریٹس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "قومی سلامتی جیسے حساس معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے یرغمال بنانا شرمناک ہے۔”
صدر ٹرمپ اب ایک مشکل دو راہے پر کھڑے ہیں۔ انہیں یا تو بل پلٹی کو عہدے سے ہٹانا ہوگا تاکہ ایف آئی ایس اے قانون کو بچایا جا سکے، یا پھر اپنے وفادار کو برقرار رکھ کر قومی سلامتی کے اس اہم قانون کے خاتمے کا خطرہ مول لینا ہوگا۔
بل پلٹی کی بطور قائم مقام ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس تقرری،نیویارک ٹائمز نے قومی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیدیا

