واشنگٹن/ٹیکساس:امریکہ میں نصف صدی سے زائد عرصے بعد ایک ایسے خطرناک ‘گوشت خور پیراسائیٹ’ (Flesh-eating parasite) نے دستک دے دی ہے جو زندہ جانوروں کے گوشت کو تیزی سے کھا کر انہیں موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔
امریکی محکمہ زراعت (USDA) نے بدھ کی شام تصدیق کی ہے کہ میکسیکو سے پھیلتا ہوا ‘نیو ورلڈ سکری ورم’ (New World Screwworm) اب ٹیکساس پہنچ چکا ہے۔
سکری ورم اصل میں ایک مکھی ہے جس کا مادہ جانوروں کے کھلے زخموں یا جسمانی حصوں میں انڈے دیتی ہے۔ جب یہ انڈے پھوٹتے ہیں تو ان سے نکلنے والی سینکڑوں لاروا (سنڈیاں) اپنے تیز دھار منہ کی مدد سے زندہ گوشت کو کترنا شروع کر دیتی ہیں، جو علاج نہ ہونے کی صورت میں جانور کی موت کا سبب بنتا ہے۔ اگرچہ یہ انسانوں اور پالتو جانوروں کو بھی متاثر کر سکتا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق انسانوں میں اس کے کیسز انتہائی نایاب ہیں۔
یہ کیس ٹیکساس کے قصبے ‘لا پریئر’ (La Pryor) میں ایک تین ہفتے کے بچھڑے میں پایا گیا، جس کی ناف کے قریب یہ لاروا موجود تھے۔ یہ علاقہ میکسیکو کی سرحد سے محض 30 میل دور ہے۔ 1966 کے بعد امریکہ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔
امریکہ کے مویشی پالنے والے کسانوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے کہ اس وبا سے گائے کے ریوڑ کم ہو سکتے ہیں، گوشت کی پیداوار متاثر ہوگی اور صارفین کے لیے قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
قرنطینہ: حکام نے سرحد کے قریب 20 کلومیٹر کے علاقے کو ‘ڈیٹیکشن اور قرنطینہ زون’ قرار دے دیا ہے۔
حکومت کروڑوں کی تعداد میں ‘بانجھ’ (Sterile) مکھیاں فضا میں چھوڑنے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ ان کے ملاپ سے اگلی نسل پیدا نہ ہو سکے۔
جہاں امریکی سیکرٹری زراعت بروک رولنز نے کسانوں کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، وہیں ٹیکساس کے ایگریکلچر کمشنر سڈ ملر نے وفاقی ردعمل پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "محکمہ زراعت نے بہت سست روی کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ صرف ایک جزوی حل پر انحصار کر رہے ہیں، جبکہ صورتحال کو قابو پانے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جانے چاہیئیں۔”
محکمہ زراعت نے کسانوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے مویشیوں کی نگرانی سخت کر دیں تاکہ اس خطرناک پیراسائیٹ کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔
امریکا میں 60 سال بعد خطرناک ‘گوشت خور پیراسائٹس کا حملہ: ٹیکساس میں ہنگامی صورتحال نافذ

