واشنگٹن/تہران: ایک انتہائی سنسنی خیز اور چونکا دینے والے انکشاف میں معلوم ہوا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایران کے خلاف ایک خفیہ منصوبے پر مشاورت کی گئی تھی جس کا مقصد ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد کو دوبارہ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچانا تھا۔ امریکی اخبار ‘نیویارک ٹائمز’ کی رپورٹ کے مطابق، یہ منصوبہ ایران کے موجودہ نظام کو اندر سے توڑنے اور احمدی نژاد کو متبادل قیادت کے طور پر پیش کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔
اسرائیلی حکام کی جانب سے تیار کردہ اس حکمتِ عملی میں نہ صرف فوجی طاقت کا استعمال شامل تھا بلکہ یہ ایک کثیر جہتی آپریشن تھا جس کے مطابق پہلے
احمدی نژاد کی بازیابی: تہران میں نظر بند سابق صدر کو ایک خطرناک حملے کے ذریعے بازیاب کرانا۔
فوجی دباؤ: کرد فورسز کی مدد لینا اور ایران کے اہم توانائی کے ڈھانچے (Energy Infrastructure) پر بمباری کرنا تاکہ حکومت کی گرفت کمزور کی جا سکے۔
ٹرمپ کا موازنہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس منصوبے کو وینیزویلا میں نکولس مادورو کے خلاف جاری کوششوں جیسی کامیابی سے تشبیہ دیتے تھے، تاہم واشنگٹن میں بھی اس انتخاب (احمدی نژاد) کو انتہائی متنازع اور حیران کن قرار دیا گیا تھا۔
منصوبے کے مطابق جنگ کے پہلے ہی دن اسرائیلی فضائیہ نے احمدی نژاد کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا۔ مقصد ان کی حفاظت پر مامور فورسز کو ہٹا کر انہیں بازیاب کرانا تھا۔
تاہم محمود احمدی نژاد اس حملے میں معجزانہ طور پر زندہ بچ گئے، اگرچہ وہ زخمی ہوئے۔ ان کی رہائش گاہ کے قریب موجود ایک سکیورٹی پوسٹ مکمل تباہ ہو گئی تھی۔ ابتدا میں ایرانی میڈیا میں ان کی ہلاکت کی خبریں گردش کرتی رہیں، تاہم بعد میں تصدیق ہوئی کہ ان کے کئی محافظ تو مارے گئے لیکن وہ خود زندہ ہیں۔یہ حکمتِ عملی عملی میدان میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی۔ امریکی اور اسرائیلی منصوبہ سازوں کا یہ اندازہ غلط نکلا کہ ایرانی حکومت کمزور ہے اور اندرونی انتشار سے ٹوٹ جائے گی۔ ایرانی نظام نے توقع سے کہیں زیادہ مضبوطی کا مظاہرہ کیا اور حکومت گرانے کی تمام کوششیں بے اثر رہیں۔
محمود احمدی نژاد کی بدلتی سیاست
محمود احمدی نژاد، جو کبھی امریکہ اور اسرائیل کے سخت ترین مخالف سمجھے جاتے تھے، اب خود ایران کے اندر ایک متنازع شخصیت ہیں۔ صدارت چھوڑنے کے بعد انہوں نے ایرانی قیادت پر بدعنوانی اور بدانتظامی کے سنگین الزامات عائد کیے۔ایرانی حکام نے انہیں بار بار الیکشن لڑنے سے روکا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں احمدی نژاد نے ٹرمپ کی فیصلہ سازی کی تعریف کی ہے اور امریکہ-ایران تعلقات میں بہتری کی خواہش ظاہر کی ہے، جس نے ان کے سیاسی کردار کو مزید پراسرار بنا دیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ منصوبہ مشرقِ وسطیٰ کی پیچیدہ سیاست اور خفیہ سفارت کاری کی ایک ایسی جھلک ہے جو دنیا کو حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ ایران کی داخلی صورتحال اور بیرونی مداخلت کی یہ داستان ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح عالمی طاقتیں اپنی مرضی کی تبدیلی لانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار رہتی ہیں۔

