بیجنگ: چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بیجنگ میں اہم ملاقات کے دوران عالمی استحکام اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دنیا کو ’طاقت کے زور‘ پر مبنی ظالمانہ نظام کے خلاف خبردار کیا ہے۔ یہ ملاقات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین کے چند روز بعد ہوئی ہے، جسے بین الاقوامی مبصرین عالمی طاقت کے توازن میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
گریٹ ہال آف پیپل میں ہونے والی ملاقات کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے موجودہ عالمی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا ایک بار پھر ایسے دور کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں صرف طاقتور کی بات سنی جاتی ہے، جسے انہوں نے ’جنگل کا قانون‘ قرار دیا۔
مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے چینی صدر نے زور دیا کہ جنگ کو مزید بڑھانا غیر دانشمندانہ ہے اور فوری طور پر ایک جامع جنگ بندی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
سیاسی اعتماد: شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور روس کے مابین سٹریٹجک تعاون اور باہمی اعتماد ہی ان کے تعلقات کی کامیابی کا راز ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے چینی ہم منصب کو اگلے سال روس کے سرکاری دورے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات اب غیر معمولی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔
"روس اور چین عالمی توازن برقرار رکھنے کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہمیں ایک ایسے منصفانہ عالمی گورننس سسٹم کی تعمیر کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا جو سب کے لیے یکساں ہو، نہ کہ صرف طاقتوروں کے مفادات کا تحفظ کرے۔”
بیجنگ میں صدر شی جن پنگ کی میزبانی کے انداز کو عالمی میڈیا میں خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی صدر کا اپنے قریبی دوستوں کو ’چائے کی میز‘ پر مدعو کرنا گہری دوستی اور خاص سفارتی اہمیت کا عکاس ہوتا ہے۔
اس ملاقات کا موازنہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورے سے بھی کیا جا رہا ہے۔ جہاں ٹرمپ نے دورے کے دوران کچھ ثقافتی مقامات (جیسے ٹیمپل آف ہیون) کا دورہ کیا، وہیں شی جن پنگ اور پوتن کی ملاقات کا ماحول زیادہ سٹریٹجک اور دوستانہ دکھائی دیا۔ ماضی میں بھی دونوں رہنماؤں کی ژونگ بان ہائی کے شاہی باغ میں بے تکلف ملاقاتیں عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر چکی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، بیجنگ میں ہونے والی یہ بیٹھک واضح پیغام ہے کہ روس اور چین عالمی سطح پر اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے یکجا ہیں اور وہ امریکہ کے زیرِ اثر عالمی نظام کے متبادل ایک مضبوط بلاک کی تشکیل کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
شی جن پنگ اور پوتن کی بیجنگ میں ملاقات، جامع جنگ بندی وقت کی ضرورت، دنیا ’جنگل کے قانون‘ کی طرف بڑھ رہی ہے ، صدر شی

