Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی: مائیکروسافٹ نے تاریخ کی سب سے بڑی سیکیورٹی اپ ڈیٹ جاری کر دی،

      بھارت کی ہٹ دھرمی : عالمی عدالت کے فیصلے کے باوجودمتنازع منصوبے ساولکوٹ ڈیم کے ٹینڈر جاری

      چیٹ جی پی ٹی کے نئے امیجز فیچر نے تہلکہ مچا دیا

      آئی فون 18 پرو، پہلے فولڈ ایبل آئی فون اور نئی واچز کی رونمائی کب کہاں ہوگی؟

      اے آئی کی دوڑ، میٹا نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹ متعارف کرادیا، پے منٹس سمیت ہر دفتری کام کرے گا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    سوشل میڈیا پابندیاں: قومی سلامتی یا اظہارِ رائے پر دباؤ؟ڈیجیٹل ترقی کے خواب کو کن خطرات کا سامنا؟

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    حریر:راجہ محمد عارف
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
    پاکستان تیزی سے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو رہا ہے، جہاں انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز نہ صرف معلومات کے ذرائع ہیں بلکہ معیشت، سیاست اور سماجی رویوں کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ حکومتِ پاکستان “ڈیجیٹل پاکستان” کے وژن کے تحت ٹیکنالوجی کے فروغ، ای گورننس اور ڈیجیٹل معیشت کے قیام کی بات کرتی ہے، تاہم اسی کے ساتھ سوشل میڈیا اور آن لائن مواد پر بڑھتی ہوئی پابندیاں ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہیں کیا ہم واقعی ڈیجیٹل ترقی کی طرف بڑھ رہے ہیں یا ایک “ڈیجیٹل کنٹرول” کے نظام کی تشکیل ہو رہی ہے؟ حالیہ برسوں میں پاکستان میں سوشل میڈیا قوانین کو مزید سخت کیا گیا ہے، جن میں جیسے قانونی فریم ورک شامل ہیں۔ ان قوانین کا بنیادی مقصد بظاہر جعلی خبروں، سائبر کرائم اور قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا تدارک ہے، مگر ناقدین کے مطابق ان کا استعمال بعض اوقات آزادیٔ اظہار کو محدود کرنے کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ متعدد صحافیوں، یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس نے شکایت کی ہے کہ آن لائن نگرانی اور مواد کی بندش نے آزادانہ اظہارِ رائے کو متاثر کیا ہے۔
    دوسری جانب، حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مکمل آزادی خطرناک ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ غلط معلومات، نفرت انگیز تقاریر اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دے سکتی ہے۔ عالمی سطح پر بھی یہ بحث جاری ہے کہ کہاں آزادیٔ اظہار ختم ہوتی ہے اور قومی سلامتی کا دائرہ شروع ہوتا ہے۔ یورپی یونین اور دیگر ممالک بھی ڈیجیٹل ریگولیشن کے قوانین متعارف کرا رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں۔
    تاہم، پاکستان کے تناظر میں ایک بنیادی فرق موجود ہے: یہاں ڈیجیٹل معیشت ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ فری لانسرز، ڈیجیٹل کریئیٹرز اور اسٹارٹ اپس اس شعبے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ اگر انٹرنیٹ کی بندش، پلیٹ فارمز کی پابندی یا سخت نگرانی کا سلسلہ جاری رہا تو یہ نہ صرف اظہارِ رائے بلکہ معاشی ترقی کو بھی متاثر کرے گا۔ پاکستان فری لانسرز کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کے بڑے ممالک میں شامل ہے، اور کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال اس ترقی کو سست کر سکتی ہے۔ مزید برآں، “ڈیجیٹل کنٹرول” کا ایک اہم پہلو اعتماد کا فقدان ہے۔ جب صارفین یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی آن لائن سرگرمیاں مسلسل نگرانی میں ہیں، تو وہ نہ صرف محتاط ہو جاتے ہیں بلکہ بعض اوقات خود سنسرشپ (self-censorship) کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ یہ رجحان ایک صحت مند جمہوری معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے، جہاں آزادانہ بحث اور تنقید کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔
    میری رائے میں پاکستان کو اس حساس توازن کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مکمل آزادی بھی مسائل پیدا کر سکتی ہے اور مکمل کنٹرول بھی۔ ایک ایسا نظام درکار ہے جو شفاف، جوابدہ اور قانون کی حکمرانی پر مبنی ہو۔ ڈیجیٹل قوانین کا اطلاق یکساں ہونا چاہیے اور ان کا استعمال سیاسی یا ذاتی مقاصد کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل تعلیم، میڈیا لٹریسی اور عوامی آگاہی کو فروغ دینا بھی ضروری ہے تاکہ شہری خود بھی ذمہ دارانہ آن لائن رویہ اختیار کریں۔
    “ڈیجیٹل پاکستان” کا خواب صرف ٹیکنالوجی کے فروغ سے پورا نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لیے آزادی، اعتماد اور شفافیت بھی اتنی ہی ضروری ہیں۔ اگر ریاست کنٹرول کو ترجیح دے گی تو ڈیجیٹل ترقی محدود ہو جائے گی، اور اگر توازن قائم رکھا گیا تو پاکستان واقعی ایک جدید، کھلا اور ترقی یافتہ ڈیجیٹل معاشرہ بن سکتا ہے۔

    Related Posts

    قبل از گرفتاری ضمانت   خارج گیپکو سب ڈویژن ہیڈ مرالہ کے ایگزیکٹو ایکسیئن گرفتار

    پولیس مقابلے میں اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے راہزن ہلاک

    جلال پور پیر والا: موٹرسائیکل کو بچا تے ہوئے گاڑی  نہر میں جا گيری

    مقبول خبریں

    ٹیم انڈیا کے چار زخمی کھلاڑیوں میں سے تین فٹ، ایک کھلاڑی اسکواڈ سے باہر

    کرینہ کپور کا بالی ووڈ پر بڑا بیان، اینمل کی مثال دے کر فلم انڈسٹری کو کیا کہا

    غزہ ، اسرائیلی فضائی حملہ، بچوں سمیت 4 افراد ہلاک

    بہت گرم چائے اور کافی سے غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، آکسفورڈ یونیورسٹی کی اہم تحقیق

    قبل از گرفتاری ضمانت   خارج گیپکو سب ڈویژن ہیڈ مرالہ کے ایگزیکٹو ایکسیئن گرفتار

    بلاگ

    ملک غلام حسن سلہال — خدمت، شرافت اور عوامی وابستگی کی روشن مثال

    تین سالہ معطلی یا انصاف کا انتظار؟ — جب احتساب، خود ایک سزا بن جائے.

    ”ہنی ٹریپ کرتی انٹی کرپشن کا احتساب کب ہوگا ؟ “ ملک محمد سلمان کا کالم

    لاہور پریس کلب میں عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو — خواتین صحافیوں کی یادگار محفلِ میلاد

    ناہید طالب: فن، صلاحیت اور خدمت کا روشن استعارہ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.