Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی: مائیکروسافٹ نے تاریخ کی سب سے بڑی سیکیورٹی اپ ڈیٹ جاری کر دی،

      بھارت کی ہٹ دھرمی : عالمی عدالت کے فیصلے کے باوجودمتنازع منصوبے ساولکوٹ ڈیم کے ٹینڈر جاری

      چیٹ جی پی ٹی کے نئے امیجز فیچر نے تہلکہ مچا دیا

      آئی فون 18 پرو، پہلے فولڈ ایبل آئی فون اور نئی واچز کی رونمائی کب کہاں ہوگی؟

      اے آئی کی دوڑ، میٹا نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹ متعارف کرادیا، پے منٹس سمیت ہر دفتری کام کرے گا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    متحدہ عرب امارات کا اوپیک سے علیحدگی کا فیصلہ کیوں؟

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:قیصرراجہ راجپوت
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    Organization of the Petroleum Exporting Countries
    یعنی تیل درآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم OPEC
    اور اس کے توسیعی حصہ OPEC+ کی دہائیوں پر محیط ساخت کو اگر ایک جملے میں بیان کیا جائے تو یہ عالمی تیل منڈی پر اجتماعی کنٹرول کی ایک ایسی کوشش رہی ہے جس نے قیمت، رسد اور جغرافیائی سیاست کو ایک دوسرے سے باندھ کر رکھا۔ مگر متحدہ عرب امارات بمعنی United Arab Emirates اور عرف عام میں UAE کا اپریل 2026 میں اس اتحاد سے نکلنے کا اعلان اس پورے فریم ورک کو ایک نئے امتحان سے دوچار کر رہا ہے، اور یہ محض ایک معاشی فیصلہ نہیں بلکہ عالمی توانائی سیاست میں طاقت کے توازن کی ازسرنو تشکیل کی علامت بن کر سامنے آیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے فیصلہ کے تناظر کو سمجھنے کے لیے اس کے معاشی مفادات اور اسٹریٹیجک اہداف کو ساتھ رکھ کر دیکھنا ضروری ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں متحدہ عرب امارات نے اپنی تیل پیدا کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیاجو کہ اسوقت تقریباً 40 لاکھ بیرل یومیہ کے اردگرد ہے جبکہ ہدف تقریباً 50 لاکھ بیرل یومیہ یعنی تقریباً 79.5 کروڑ لیٹر یومیہ تک پہنچنا ہے۔ اس کے برعکس اوپیک+ کی پالیسی پیداوار کو محدود رکھنے کی رہی ہے تاکہ قیمتیں مستحکم رہیں اور سپلائی کو کنٹرول کر کے قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو کنٹرول کیا جا سکے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ تھا جس نے دبئی اور ابوظہبی کی قیادت کو یہ احساس دلایا کہ کوٹہ سسٹم دراصل ان کی سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر اور مستقبل کی آمدنی کو محدود کر رہا ہے۔ چنانچہ “sovereign decision” کی اصطلاح صرف ایک سفارتی جملہ نہیں بلکہ ایک واضح اشارہ ہے کہ اب قومی مفاد اجتماعی فیصلوں پر غالب آ رہا ہے۔

    اس فیصلے کا ایک اہم پہلو علاقائی سیاست سے بھی جڑا ہوا ہے۔ خلیج میں سعودی عرب طویل عرصے سے اوپیک کی قیادت کرتا آیا ہے، اور دیگر ممبران اپنے تحفظات کا اظہار کرتے آئے ہیں کہ اکثر پالیسی فیصلے ریاض کے مفادات کے مطابق تشکیل پاتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات، جو خود کو ایک ابھرتی ہوئی علاقائی اور عالمی طاقت کے طور پر دیکھتا ہے، اور دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کرنے والا ملک ہے اب اس ڈھانچے میں ثانوی کردار قبول کرنے کے لیے تیار نہیں دکھائ دیتا۔ اس کے ساتھ ساتھ Iran کے ساتھ کشیدگی، آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال، اور وسیع تر سیکیورٹی چیلنجز نے بھی اس بات کو تقویت دی ہے کہ اب توانائی پالیسی میں لچک ناگزیر ہو چکی ہے۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ممالک میں متحدہ عرب امارات پہلے ترین نمبروں میں شامل ہے۔

    عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تیل کی قیمتیں پہلے ہی دباؤ میں ہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث سپلائی چین خطرات سے دوچار ہیں۔ Brent crude oil کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چکی ہے، جبکہ مارکیٹ میں غیر یقینی اتار چڑھاؤ بڑھ رہا ہے۔ ایسے ماحول میں یو اے ای کا اوپیک اور اوپیک پلس سے نکلنا اس بات کا اشارہ ہے کہ اب بڑے پروڈیوسرز بھی اجتماعی نظم و ضبط کے بجائے انفرادی حکمت عملی کو ترجیح دے رہے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات کے اس فیصلہ کے فوری اثرات میں سب سے نمایاں اوپیک کی ساکھ اور اثر و رسوخ کو پہنچنے والا دھچکا سرفہرست ہے۔ یو اے ای نہ صرف ایک بڑا پروڈیوسر ہے بلکہ وہ ایک ایسا ملک بھی ہے جسے جدید انفراسٹرکچر، سرمایہ کاری اور مارکیٹ رسائی کے باعث مستقبل کا انرجی لیڈر سمجھا جاتا رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے اوپیک اور اوپیک پلس سے نکلنے سے عوامی طور پر یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ اوپیک کے اندر اختلافات محض وقتی نہیں بلکہ ساختی نوعیت کے ہیں۔ اس سے پہلے قطر 2019 اور انگولا 2024 میں اس اتحاد سے الگ ہو چکے ہیں، جو اس رجحان کو مزید واضح کرتا ہے۔

    طویل المدتی سطح پر اس فیصلے کے اثرات زیادہ گہرے ہو سکتے ہیں۔ اگر دیگر ممالک بھی کوٹہ سسٹم سے بیزار ہو کر الگ ہونے لگے تو اوپیک اور اوپیک+ کا پورا ماڈل کمزور پڑ سکتا ہے۔ اس صورتحال میں عالمی تیل منڈی زیادہ مسابقتی تو ہو جائے گی، مگر ساتھ ہی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ بھی معمول بن سکتا ہے۔ یہ وہ صورتحال ہوگی جہاں رسد کے جھٹکے یعنی supply shocks اور geopolitical tensions براہِ راست قیمتوں پر اثر انداز ہوں گے، اور یہ بغیر کسی مرکزی کنٹرول کے ہو گا جسکے نتائج لامتناہی ہو سکتے ہیں۔

    امریکہ کے تناظر میں بھی اس پیش رفت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے اوپیک پر تنقید کرتے رہے ہیں کہ یہ مصنوعی طور پر قیمتوں کو کنٹرول کرتا ہے۔ اکثر اوقات جب امریکی خواہش قیمتوں کو بڑھانے کی ہوتی ہے تو اوپیک ممالک سپلائ بڑھا کر عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کو بڑھنے نہیں دیتے جبکہ اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ امریکہ و دیگر ممالک قیمتوں کو کم کروانا چاہ رہے ہوتے ہیں تو ممبر ممالک قیمتوں کو گرنے سے روکتے ہیں۔ یو اے ای کا یہ قدم بالواسطہ طور پر اسی بیانیے کو تقویت دیتا ہے، کیونکہ اس سے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی اجتماعی طاقت میں کمی واقع ہوتی ہے اور یوں بیانیہ کے طور پر فری مارکیٹ کے اصولوں کو تقویت ملتی ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ اسوقت توانائی کی دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں روایتی اتحاد ٹوٹ رہے ہیں اور نئے توازن تشکیل پا رہے ہیں۔متحدہ عرب امارات کا فیصلہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اب تیل کی سیاست صرف سپلائی اور قیمت تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ قومی خودمختاری، علاقائی طاقت کے توازن اور عالمی اسٹریٹیجک مفادات کا مجموعہ بن چکی ہے۔ آنے والے برسوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ آیا اوپیک خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھال پاتا ہے یا پھر عالمی توانائی منڈی مکمل طور پر ایک نئے، زیادہ غیر یقینی اور کثیر قطبی نظام میں داخل ہو جاتی ہے۔

    Related Posts

    قبل از گرفتاری ضمانت   خارج گیپکو سب ڈویژن ہیڈ مرالہ کے ایگزیکٹو ایکسیئن گرفتار

    پولیس مقابلے میں اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے راہزن ہلاک

    جلال پور پیر والا: موٹرسائیکل کو بچا تے ہوئے گاڑی  نہر میں جا گيری

    مقبول خبریں

    ٹیم انڈیا کے چار زخمی کھلاڑیوں میں سے تین فٹ، ایک کھلاڑی اسکواڈ سے باہر

    کرینہ کپور کا بالی ووڈ پر بڑا بیان، اینمل کی مثال دے کر فلم انڈسٹری کو کیا کہا

    غزہ ، اسرائیلی فضائی حملہ، بچوں سمیت 4 افراد ہلاک

    بہت گرم چائے اور کافی سے غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، آکسفورڈ یونیورسٹی کی اہم تحقیق

    قبل از گرفتاری ضمانت   خارج گیپکو سب ڈویژن ہیڈ مرالہ کے ایگزیکٹو ایکسیئن گرفتار

    بلاگ

    ملک غلام حسن سلہال — خدمت، شرافت اور عوامی وابستگی کی روشن مثال

    تین سالہ معطلی یا انصاف کا انتظار؟ — جب احتساب، خود ایک سزا بن جائے.

    ”ہنی ٹریپ کرتی انٹی کرپشن کا احتساب کب ہوگا ؟ “ ملک محمد سلمان کا کالم

    لاہور پریس کلب میں عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو — خواتین صحافیوں کی یادگار محفلِ میلاد

    ناہید طالب: فن، صلاحیت اور خدمت کا روشن استعارہ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.