اسلام آباد :پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی آنکھ کے آپریشن کے بعد 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں ان کے وکلا کی جانب سے اہم پیش رفت ہوئی ہے، 190 ملین پاؤنڈ کیس میں اہم پیش رفت ، بشری بی بی کی آنکھ کی سرجری کے بعد ان کی سزا معطلی کی درخواست پر جلد فیصلہ کرانے کی پہلی کوشش سامنے آگئی بشری بی بی کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں نئی درخواست دائرکی گئی ہے جس میں ان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت سے میڈیکل ایمرجنسی کی وجہ سے سزا معطلی درخواست پر جلد فیصلہ کرنے کی استدعا کی ہے۔
بشری بی بی کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں الشفا آئی ہسپتال کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ اور جیل سپریڈنٹ کو ریکارڈ سمیت طلب کرنے کے بھی استدعا کی گئی ہے
بشری بی بی کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر نئی درخواست میں میڈیکل ایمرجنسی کی وجہ سے سزا معطلی درخواست پر جلد فیصلہ کرنے اور بشری بی بی تک ان کے وکلا اور فیملی کی رسائی کی استدعا کی گئی ہے۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کی آنکھ کی سرجری پنڈی کے الشفا آئی اسپتال میں کی گئی، سرجری سے پہلے کسی فیملی ممبر کو آگاہ نہیں کیا گیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست کے مطابق بشریٰ بی بی کی فیملی نے ملاقات کے بعد دیکھا کہ ان کو کالی عینک لگا کر بیٹھا دیا گیا ہے اور ان کی میڈیکل کنڈیشن سیریس نوعیت کی ہے۔
عدالت عالیہ سے درخواست کی گئی ہے کہ ڈاکٹروں یا جیل حکام کی جانب سے ابھی تک کسی قسم کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، بشریٰ بی بی خاتون ہیں اور ان کی سزا بھی سات سال ہے جو کم کے زمرے میں آتی ہے
بشریٰ بی بی کے آنکھ کے آپریشن کے بعد 190 ملین پاؤنڈ کیس میں اہم پیش رفت

