واشنگٹن/ اسلام آباد: جنوبی ایشیا کے امور کے ماہر مائیکل کوگلمین کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ان کے اعلیٰ سطح کے وفد کا طویل سفر کر کے پاکستان آنا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ امریکا اس بار ایران کے ساتھ کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے لیے کتنا سنجیدہ ہے۔
امریکی تھنک ٹینک ولسن سینٹر کے ڈائریکٹر اور جنوبی ایشیا کے معروف ماہر مائیکل کوگلمین کی ایکس پرشائع کی گئی پوسٹ کے مطابق، امریکا اس وقت اپنی اندرونی سیاسی وجوہات کی بنا پر کسی بھی قیمت پر اس جنگ سے نکلنا چاہتا ہے۔ وہ ایک ایسی ڈیل کی تلاش میں ہے جو اسے مشرقِ وسطیٰ کے اس دلدل سے باوقار طریقے سے نکلنے کا موقع فراہم کر سکے۔
The US, for domestic political reasons, wants a deal that enables it to exit the war. That such a senior group flew all the way to Pak shows the US commitment. Despite Vance’s comments, this likely isn’t over. More talks could come-but unclear if they’ll be in Pak or elsewhere.
— Michael Kugelman (@MichaelKugelman) April 12, 2026
تجزیہ کار کا ماننا ہے کہ اگرچہ نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان روانگی سے قبل ایران کو سخت وارننگ دی اور تند و تیز جملے استعمال کیے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کوگلمین کا کہنا ہے:
”اتنے سینئر وفد کا پاکستان آنا ظاہر کرتا ہے کہ امریکا اس عمل کے لیے مکمل پرعزم ہے۔ نائب صدر کے بیانات اپنی جگہ، لیکن یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا۔“
مائیکل کوگلمین نے پیش گوئی کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت کا یہ سلسلہ جاری رہے گا اور مزید کئی راؤنڈز متوقع ہیں۔ تاہم، انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا آنے والے مذاکرات دوبارہ پاکستان میں ہوں گے یا کسی اور ملک (جیسے قطر یا اومان) کا انتخاب کیا جائے گا؟

