نئی دہلی : دہلی ہائی کورٹ نے مشہور ریپرز ہنی سنگھ اور بادشاہ کے 2006-07 کے انتہائی متنازع گانے ‘والیم 1’ (Volume 1) کو تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور آن لائن اسٹریمنگ سائٹس سے فوری طور پر ہٹانے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں اس گانے کو خواتین کی تذلیل اور اخلاقی پستی کا نمونہ قرار دیا ہے۔
جسٹس نے کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ یہ ان نایاب کیسز میں سے ایک ہے جہاں عدالت کا ضمیر بری طرح جھنجھوڑ دیا گیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا گانا انتہائی بیہودہ، فحش اور خواتین کی عزتِ نفس، فنکارانہ اقدار اور سماجی روایات کے خلاف ہے۔
اس گانے کے بول محض توہین آمیز نہیں بلکہ خواتین کو جنسی تسکین کی ‘چیز’ کے طور پر پیش کرنے کی دانستہ کوشش ہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ ‘آرٹسٹک فریڈم’ یا اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر ایسی غلاظت کو نابالغ بچوں تک رسائی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
اسپاٹی فائی اور دیگر پلیٹ فارمز کو ہدایات
عدالت نے Spotify، ہنی سنگھ اور دیگر تمام متعلقہ فریقوں کو حکم دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس گانے کے یو آر ایل (URLs) اور لنکس کو ڈیلیٹ کریں۔ عدالت کا ماننا ہے کہ کوئی بھی مہذب معاشرہ ایسے مواد کو نہ تو آن لائن رہنے کی اجازت دے سکتا ہے اور نہ ہی اس سے پیسے کمانے (Monetization) کی چھوٹ دے سکتا ہے۔
مافیا منڈیر سے دشمنی تک کا سفر
واضح رہے کہ بادشاہ اور ہنی سنگھ نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک ساتھ ‘مافیا منڈیر’ نامی گروپ سے کیا تھا، جس میں رفتاار اور اکا جیسے ریپرز بھی شامل تھے۔ 2012 میں بینڈ ٹوٹنے کے بعد دونوں کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو گئے (Tateeree)
یہ عدالتی حکم ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب بادشاہ پہلے ہی اپنے حالیہ ٹریک ‘تتیری’ کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہیں۔ اس گانے کے بول اور ویژولز پر بھی عوامی حلقوں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا تھا، جس پر بادشاہ نے انسٹاگرام پر معافی مانگتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا مقصد کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا۔
”مہذب معاشرے میں اس غلاظت کی جگہ نہیں“: عدالت کا ہنی سنگھ ، بادشاہ کو متنازع گانافوری ہٹانے کا حکم

