خیبر پختونخوا میں حالیہ شدید بارشوں نے تباہی مچا دی ہے۔ پی ڈی ایم اے رپورٹ کے مطابق 18 بچے اور 5 خواتین سمیت مجموعی طور پر 25 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 77 زخمی ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 25 مارچ سے بنوں، ایبٹ آباد، باجوڑ اور کوہاٹ سمیت دیگر اضلاع میں چھتیں اور دیواریں گرنے کے حادثات پیش آئے۔ بنوں اور ایبٹ آباد میں ہر ضلع میں 8 افراد، جبکہ باجوڑ میں 4 افراد جاں بحق ہوئے۔
شدید بارشوں کی وجہ سے صوبہ بھر میں 88 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں سے 17 گھروں کو مکمل طور پر تباہ قرار دیا گیا ہے۔ چھتیں گرنے کے واقعات میں 22 مویشی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔
پی ڈی ایم اے نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ تمام متاثرین خصوصاً جاں بحق افراد کے لواحقین کو فوری امداد فراہم کی جائے اور متاثرہ علاقوں میں نقصان کا جائزہ لے کر فوری اقدامات کیے جائیں۔
پی ڈی ایم نے بلوچستان نے بلوچستان کے مختلف شہروں اور قصبوں میں حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلابی صورت حال کے نتیجے میں جانی ومالی نقصان کی رپورٹ جاری کردی ہے جس کے مطابق مجموعی طور پر7 افراد جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے تربت میں دو، لورالائی میں دو جبکہ کوہلو ،جعفرآباد،اورکچی میں ایک ایک شخص کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے
کراچی کے مختلف علاقوں میں صبح موسلادھار بارش کے بعد وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ مختلف حادثات میں اب تک 4 افراد جاں بحق اور کم از کم 3 زخمی ہوگئے، جس کے پیشِ نظر شہر میں رین ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔کراچی کے مختلف علاقوں میں بارش کے دوران بجلی کے متعدد فیڈرز ٹرپ کر گئے جس کے باعث کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔
شہر کے علاقوں گرومندر، گارڈن، صدر، اولڈ سٹی ایریا، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، نیو کراچی، گلشن اقبال، گلستان جوہر، اسکیم 33، ملیر، ماڈل کالونی، شاہ فیصل کالونی، ڈیفنس، کلفٹن، کورنگی اور لانڈھی میں تیز بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں آج سے 4 اپریل تک بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی کی ہے، جس کے ساتھ چند مقامات پر ژالہ باری کا امکان بھی ہے۔ محکمہ نے عوام کو محتاط رہنے اور احتیاطی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔
چترال، دیر، سوات، کالام، شانگلہ اور بونیر میں آج رات سے 4 اپریل تک بارش اور گرج چمک متوقع ہے۔ دیگر اضلاع بشمول کوہستان، مالاکنڈ، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، کوہاٹ، کرک، بنوں، لکی مروت، ٹانک، ڈی آئی خان، باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی اور وزیرستان کے پہاڑی علاقے بھی اس دوران بارش کی لپیٹ میں رہیں گے۔
دیامر، استور، اسکردو، ہنزہ، گلگت اور گھانچے میں پہاڑوں پر برفباری کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔ نیلم ویلی، مظفرآباد، ہٹیاں بالا، باغ، پونچھ، حویلی، سدھنوتی، کوٹلی، بھمبر اور میرپور میں بارش اور تیز ہواؤں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم اور میانوالی میں بھی بارش کا امکان ہے۔
پنجاب کے دیگر علاقوں جیسے سرگودھا، حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، شیخوپورہ، فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، خوشاب، نارووال، سیالکوٹ، اوکاڑہ، ساہیوال، پاکپتن، قصور، بہاولنگر، بہاولپور، رحیم یار خان، ڈیرہ غازی خان اور لیہ میں بھی بارش متوقع ہے، جبکہ ڈیرہ غازی خان میں شدید بارش کا امکان ہے۔
بلوچستان کے ژوب، موسیٰ خیل، بارکھان، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، چمن، زیارت، سبی، ہرنائی، کوہلو، بولان، خضدار، قلات، سوراب، آواران، لسبیلہ، گوادر، پسنی اور ماڑہ میں بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے، جبکہ بعض علاقوں میں شدید بارش اور ژالہ باری کا خطرہ بھی ہے۔
سندھ میں کشمور، گھوٹکی، سکھر، لاڑکانہ، دادو، شہید بینظیر آباد اور تھرپارکر میں 2 سے 4 اپریل کے دوران گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے
محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں آندھی، گردآلود ہواؤں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کی وارننگ جاری کی ہے۔ شدید ہواؤں اور ژالہ باری کے باعث بجلی کے کھمبے، کمزور انفراسٹرکچر اور درختوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، جبکہ کاشتکاروں کو فصلوں کے تحفظ کے لیے پیشگی اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
شہریوں کو احتیاط برتنے، غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ شدید موسمی صورتحال کے دوران روزمرہ معمولات متاثر ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔

