لاہور : صوبائی دارالحکومت کے قلب میں واقع سیشن کورٹ کے احاطے میں سکیورٹی کی سنگین خلاف ورزی سامنے آئی ہے، جہاں ایڈیشنل سیشن جج سیف اللہ موہل کی عدالت کے باہر فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو اسلحہ سمیت گرفتار کر لیا ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق، زخمی سعد ولد اظہر قتل کے ایک مقدمے میں ضمانت پر پیشی کے لیے عدالت آیا تھا۔ گھات لگائے بیٹھے ملزم ندیم ولد عبدالعزیز نے اسے دیکھتے ہی اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں سعد کو 3 گولیاں لگیں اور اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ فائرنگ کی زد میں آکر ایک راہگیر عثمان بھی زخمی ہوا۔ دونوں زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے میو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس نے شوٹر ندیم کو پسٹل سمیت گرفتار کر لیا ہے جبکہ ذرائع کے مطابق گرفتار شوٹر کا ایک ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ہے یاد رہے دو سال قبل تھانہ نواب ٹاؤن کے علاقہ میں لڑائی جھگڑے کے دوران قتل کی ہولناک واردات کا واقعہ پیش ایا تھا اور اپنے مخالف کو قتل کروانے کے لیے شوٹرز کا استعمال کیا گیا تھا جس نے اج لاہور سیشن کورٹ میں دن دہاڑے برامدے میں فائرنگ کر کے نواب ٹاؤن میں درج ایف ائی ار کے نامزد ملزم سعد اظہر کو قتل کرنے کی کوشش کی جو ناکام رہی۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ، جسٹس عالیہ نیلم نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب اور سیشن جج لاہور سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا
"عدالتوں کی سکیورٹی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ پنجاب کی تمام عدالتوں کی سکیورٹی کو ہر صورت فول پروف بنایا جائے۔”
ڈی آئی جی آپریشنز اور ایس ایس پی آپریشنز توقیر نعیم نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ ہے اور ملزم مبینہ طور پر مدعی مقدمہ کے ایما پر حملہ آور ہوا۔ پولیس اب اس پہلو پر جامع تحقیقات کر رہی ہے کہ سخت چیکنگ کے باوجود اسلحہ عدالتی احاطے کے اندر کیسے پہنچا؟
ڈی آئی جی آپریشنز نے سکیورٹی پروٹوکول میں خامیوں کی نشاندہی کرنے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ملزم کی نقل و حرکت کا ریکارڈ حاصل کیا جا رہا ہے۔
لاہور میں ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت کے باہر فائرنگ، دو افرادشدید زخمی، ملزم گرفتار

