کابل:افغانستان میں طالبان حکومت نے ایک سال سے زائد عرصے سے زیرحراست امریکی شہری اور محقق ڈینس کوائل کو عیدالفطر کے موقع پر رہا کردیا، جبکہ امریکا نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے دیگر قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق کابل میں طالبان حکام نے امریکی ماہر تعلیم ڈینس کوائل کو رہا کردیا۔ افغان وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ رہائی عیدالفطر کے موقع پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی۔
افغانستان حکومت نے آمریکی شہری ڈینس کوئل کو کابل میں زلمے خلیل زاد اور متحدہ عرب امارات کے سفیر کے حوالہ کر دیا گیا۔
بیان کے مطابق ڈینس کوائل کو ان کے اہلخانہ کی اپیل اور سپریم کورٹ کی جانب سے سزا کو کافی قرار دینے کے بعد رہا کیا گیا۔ انہیں جنوری 2025 میں حراست میں لیا گیا تھا، تاہم افغان حکام نے کبھی واضح نہیں کیا کہ ان پر کون سے قوانین کی خلاف ورزی کا الزام تھا۔
امریکی وزیر خارجہمارکو روبیو نے رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر بیرون ملک غیر منصفانہ حراستوں کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، اور گزشتہ 15 ماہ کے دوران 100 سے زائد امریکی شہریوں کو رہا کرایا جاچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ امریکی حکام نے ایک بار پھر دیگر امریکی شہریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق طالبان کے پاس اب بھی کم از کم چار امریکی شہری موجود ہیں، جن میں افغان نژاد امریکی بزنس مین محمود حبیبی بھی شامل ہیں۔ ان کے اہلخانہ اور ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ انہیں 2022 میں طالبان نے حراست میں لیا، تاہم افغان حکام اس کی تردید کرتے ہیں۔
محمود حبیبی کے بھائی احمد حبیبی نے ڈینس کوائل کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کے بھائی بھی جلد واپس آجائیں گے۔
افغان وزارت خارجہ کے مطابق یہ رہائی خیرسگالی اور اعتماد کی فضا کو بہتر بنانے کے لیے کی گئی ہے، اور امید ظاہر کی گئی ہے کہ دونوں ممالک مستقبل میں باہمی بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں گے۔
افغان طالبان نے امریکی محقق ڈینس کوائل کو رہا کر دیا، زلمے خلیل زاد کے حوالے

