واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز اپنی سوشل میڈیا ایپ ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک طویل پوسٹ میں اعلان کیا ہے کہ امریکا مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے خلاف اپنی "عظیم فوجی کوششوں” کو سمیٹنے پر غور کر رہا ہے۔ صدر کا کہنا ہے کہ امریکا اپنے طے شدہ اہداف کے بہت قریب پہنچ چکا ہے، لہذا اب 28 فروری سے جاری اس لڑائی کو ختم کرنے کا وقت قریب ہے۔
ٹرمپ کے وہ 5 اہداف جو ‘تقریباً’ حاصل ہو چکے ہیں:
صدر ٹرمپ نے ان مقاصد کی فہرست بھی جاری کی جن کی بنیاد پر وہ اس جنگ کو ختم کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں:
میزائل پروگرام کی تباہی: ایران کی میزائل صلاحیت، لانچرز اور متعلقہ ڈھانچے کو مکمل ناکارہ بنانا۔
دفاعی صنعت کا خاتمہ: ایران کے دفاعی صنعتی ڈھانچے کو جڑ سے اکھاڑنا۔
بحریہ و فضائیہ کی بیخ کنی: ایرانی بحریہ، فضائیہ اور فضائی دفاعی نظام کا مکمل خاتمہ۔
جوہری خواب کی موت: ایران کو جوہری صلاحیت سے دور رکھنا اور امریکی جوابی کارروائی کو یقینی بنانا۔
اتحادیوں کا تحفظ: اسرائیل، سعودی عرب، قطر، یو اے ای اور دیگر خلیجی ممالک کو اعلیٰ ترین سکیورٹی فراہم کرنا۔
آبنائے ہرمز: ٹرمپ کے لیے ‘سٹریٹجک دلدل’
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے لہجے میں یہ تبدیلی دراصل اس احساس کا نتیجہ ہے کہ وہ اس بحران کو اکیلے حل نہیں کر سکتے۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے واشنگٹن کے پیٹرول پمپس پر قیمتیں اتنی ہی تیزی سے بڑھ رہی ہیں جتنی ٹوکیو میں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جو ٹرمپ پہلے نیٹو، جاپان اور جنوبی کوریا کی مدد کو غیر ضروری قرار دے رہے تھے، اب وہی ٹرمپ ان ممالک سے اس تنازع میں کودنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بعض ریاستوں کی جانب سے ہچکچاہٹ پر صدر ٹرمپ نے انہیں ‘بزدلی’ کا طعنہ بھی دیا ہے۔
اب امریکا پہرہ نہیں دے گا!
صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا کہ مستقبل میں آبنائے ہرمز کی حفاظت اور نگرانی ان ممالک کو کرنی ہوگی جو اسے استعمال کرتے ہیں۔ ان کے بقول:
"امریکا اب پہرہ نہیں دے گا۔ اگر درخواست کی گئی تو ہم مدد کریں گے، لیکن ایران کے خطرے کے خاتمے کے بعد یہ ایک آسان فوجی آپریشن ہونا چاہیے جو باقی دنیا کو خود سنبھالنا ہوگا۔”
"ایران مشن مکمل ہونے کے قریب”: صدر ٹرمپ کا فوجی کارروائیاں ‘سمیٹنے’ کا اعلان، آبنائے ہرمز کو عالمی ذمہ داری قرار دے کر اتحادیوں کو ‘بزدلی’ کا طعنہ!


