پشاور:وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے عیدالفطر پر ملاقات کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی اس وقت اڈیالہ جیل میں زیر حراست ہیں اور ان سے ملاقاتوں کا معاملہ پہلے بھی کئی بار اٹھایا جا چکا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ قیدیوں کو اہلِ خانہ سے ملاقات کا حق قانونی اور انسانی بنیادوں پر یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جیل مینوئل اور عدالتی احکامات کے باوجود بنیادی حقوق کی فراہمی میں رکاوٹ تشویشناک ہے۔ خط میں مزید کہا گیا کہ قیدیوں کو اہلخانہ سے ملاقات، انسانی سلوک اور مناسب طبی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی قانونی ذمہ داری ہے۔
وزیراعلیٰ نے پاکستان پریزن رولز 1978 اور پریزنز ایکٹ 1894 کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کو ان کے قانونی حقوق فراہم کیے جائیں، اور اس ضمن میں فوری ہدایات جاری کی جائیں۔ ادھر بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ گولڈ اسمتھ نے وزیراعظم شہباز شریف سے اپیل کی ہے کہ ان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان خان کو اپنے والد سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
ایکس پر جاری بیان میں جمائمہ کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹوں سلیمان اور قاسم نے جنوری میں پاکستان آنے کے لیے ویزا درخواستیں جمع کرائی تھیں تاہم 60 روز گزرنے کے باوجود ویزے جاری نہیں کیے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی قونصل خانے کے مطابق آن لائن ویزا پراسیسنگ کا دورانیہ عموماً 7 سے 10 ورکنگ دن ہوتا ہے لیکن ان کے بیٹوں کے کیس میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے۔
جمائما کا کہنا تھا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیراعظم کے ترجمان مشرف زیدی کی جانب سے کی یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ ان کے بیٹے محفوظ طریقے سے پاکستان آ کر والد سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ جمائما نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ انسانی بنیادوں پر ان کے بیٹوں کو فوری طور پر ملاقات کی اجازت دی جائے خاص طور پر ایسے وقت میں جب عمران خان کی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عید پر اہلخانہ سے ملاقات کروائی جائے، سہیل آفریدی کا وزیراعظم کو خط

