واشنگٹن/اسلام آباد (نیوز ڈیسک): امریکی محکمہ خارجہ نے ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے لاہور اور کراچی میں قائم اپنے قونصل خانوں سے غیر ضروری سرکاری عملے اور ان کے اہل خانہ کو فوری طور پر پاکستان چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔
3 مارچ 2026 کو جاری ہونے والی اس "ٹریول ایڈوائزری” نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق یہ فیصلہ 28 فروری سے جاری امریکا-ایران جنگ کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

پاکستان کے مختلف حصوں، خصوصاً بلوچستان اور خیبرپختونخوا کو "لیول 4” (انتہائی خطرناک) قرار دیتے ہوئے وہاں کا سفر کرنے سے قطعی منع کر دیا گیا ہے۔
پینٹاگون اور محکمہ خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ دہشت گرد گروہ ٹرانسپورٹ مراکز، شاپنگ مالز، ہوٹلوں، اسکولوں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
سوشل میڈیاپوسٹ پر گرفتاری کا ڈر:
ایڈوائزری میں امریکی شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر حکومت یا فوج کے خلاف کچھ بھی لکھنے سے گریز کریں، کیونکہ پاکستان میں ایسے مواد پر گرفتاری کا خطرہ موجود ہے۔
انٹرنیٹ کی بندش:
مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ اور موبائل سروس کی اچانک بندش کو بھی ایک بڑے چیلنج کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ بدستور کام کرتا رہے گا، تاہم لاہور اور کراچی سے عملے کا نکلنا ظاہر کرتا ہے کہ بڑے شہروں میں خطرہ زیادہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، ایڈوائزری میں سڑکوں پر ہونے والے جرائم، جیسے موبائل چھیننا اور بیگ چوری، کو بھی امریکی شہریوں کے لیے ایک مستقل خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

