ڈیووس: کہتے ہیں کہ بڑے لوگوں کی چھینک بھی خبر بن جاتی ہے، لیکن فرانسیسی صدر امانوئل میکرون کے معاملے میں تو ان کا ’چشمہ‘ ہی کمپنی کے لیے لاٹری ثابت ہوا۔ عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں صدر میکرون کا ایک خاص عینک پہننا اطالوی کمپنی کے لیے کروڑوں ڈالر کا تحفہ بن گیا۔
ایک عینک، اور کروڑوں کا فائدہ
فرانسیسی صدر کی تقریر کے دوران ان کے اسٹائلش چشمے نے سوشل میڈیا پر دھوم مچائی تو اسٹاک مارکیٹ بھی پیچھے نہ رہی۔ رپورٹ کے مطابق جیسے ہی میکرون کی تصاویر وائرل ہوئیں، اطالوی کمپنی ’آئی ویژن ٹیک‘ (I-Vision Tech) کے حصص کی قیمتیں راکٹ کی طرح اوپر چلی گئیں۔اس ’غیر ارادی تشہیر‘ سے کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں لاکھوں ڈالر کا اضافہ ہو گیا۔
یہ کوئی عام چشمہ نہیں بلکہ ایک لگژری آئٹم ہے جس کی قیمت تقریباً 775 ڈالر (تقریباً سوا دو لاکھ پاکستانی روپے) بتائی جا رہی ہے۔
آنکھوں کا علاج یا مفت کی مشہوری؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر میکرون نے یہ عینک کسی فیشن شو کے لیے نہیں بلکہ اپنی آنکھ کی ایک معمولی تکلیف کو چھپانے کے لیے پہنی تھی۔ یہ برانڈ دراصل ایک پرانا فرانسیسی برانڈ ہے جسے 2023 میں اطالوی کمپنی نے خریدا تھا۔ صدر کی اس ’مجبوری‘ نے برانڈ کی بین الاقوامی سطح پر ایسی مفت مارکیٹنگ کر دی کہ بڑی بڑی ایڈورٹائزنگ ایجنسیاں دیکھتی رہ گئیں۔
سیاست، صلح اور اسٹائل
میکرون کی یہ (Aviator sunglasses) اس وقت بھی موضوع بحث رہی جب وہ اپنے امریکی ہم منصب کی دھمکیوں کے جواب میں ’یورپی اصولوں‘ اور ’عالمی امن‘ کا دفاع کر رہے تھے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ میکرون نے نہ صرف امن کا پیغام دیا بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا کہ اگر آنکھیں دکھانی ہوں تو اسٹائل کے ساتھ دکھانی چاہئیں
صدر کا ’ٹشن‘ اور کمپنی کی موجیں: میکرون کی عینک نے مارکیٹ میں آگ لگا دی!

