واشنگٹن : ’اردن میں امریکی فضائی اڈے پر ایران کے میزائل حملے کے نتیجے میں کئی امریکی لڑاکا طیارے کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ حملے کو روکنے کے لیے واشنگٹن کو تیس سے زائد مہنگے ترین پیٹریاٹ میزائل استعمال کرنا پڑے۔
سی بی ایس نیوزکے مطابق تقریباً آٹھ ایف-15 طیاروں کو معمولی نقصان پہنچا اور مرمت کے بعد انھیں دوبارہ فضائی بیڑے میں شامل کر دیا گیا۔ معاملے کی حساسیت کے باعث ان ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اے-10 تھنڈربولٹ حملہ آور طیارہ، جو وار تھاگ کے نام سے معروف ہے، میزائل حملے کے نتیجے میں اپنے ایک ونگ سے محروم ہو گیا۔
سی بی ایس سے بات کرنے والے انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق ان حملوں میں کوئی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا۔
🚨🇺🇸🇮🇷 BREAKING: American jets were damaged in Iran's strike on Jordan, and 30 Patriots were fired to stop it
People with direct knowledge tell CBS that roughly eight F-15s took light damage and were returned to service, and an A-10 Warthog lost a wing.
No American deaths. U.S.… pic.twitter.com/JJZ82Nz0RZ
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) September 10, 2026
یہ حملے اس اعلان کے چند گھنٹے بعد ہوئے جب امریکا نے کہا تھا کہ اس نے امریکی بحریہ کے ایک جنگی جہاز پر ایرانی حملوں کے جواب میں پانچ ایرانی تیل بردار ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کے جواب میں پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اس نے آٹھ امریکی تیل بردار ٹینکروں اور دو جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا، جن میں اردن کا موفق سلطی فضائی اڈہ بھی شامل ہے۔
سی بی ایس نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ اردن میں تعینات امریکی افواج نے ان حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے 30 سے زیادہ پیٹریاٹ میزائل داغے۔دفاعی ماہرین کے مطابق، چالیس لاکھ ڈالر فی عدد کی لاگت والے تیس سے زائد پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کا ایک ہی رات میں استعمال کیا جانا تقریباً 120 ملین ڈالر سے زائد کی لاگت کا حامل ہے، جبکہ اس وقت امریکی ذخائر جنگ سے پہلے کی سطح کے محض 36 فیصد پر ہیں اور سالانہ پیداوار 600 تک محدود ہے۔ دوسری جانب، ایران نے سینکڑوں کی تعداد میں تیار ہونے والے 20 بیلسٹک میزائل خرچ کر کے امریکہ کو بھاری مالی نقصان اور اہم جنگی اثاثوں کا ضیاع دیا ہے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سی بی ایس اس سے قبل امریکی حکام کے حوالے سے یہ خبر دے چکا ہے کہ کئی ماہ سے جاری لڑائی کے بعد امریکی پیٹریاٹ میزائلوں اور بعض دیگر جدید ہتھیاروں کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔
پینٹاگون کے حکام نے تاحال موفق سلطی اڈے پر موجود طیاروں کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات کی نہ تو باضابطہ تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید کی ہے۔

