ریاض :وزیراعظم شہباز شريف اور فیلڈ ماشل جنرل عاصم منير کل جمعرات کو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔
العربیہ کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں جبکہ دونوں فریقوں کے درمیان رابطوں کے وجود اور ان کی نوعیت کے حوالے سے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے تہران کے ساتھ جاری مذاکرات کی تصدیق کی جن سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے ایک فوری معاہدہ طے پا سکتا ہے تو دوسری طرف ایران نے امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت کی تردید کی ہے۔ اس نے یہ واضح کیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں محفوظ گزرگاہ کا طریقہ کار طے کرنے کے لیے خصوصی طور پر سلطنت عمان کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔
واشنگتن اور تہران کے درمیان جون کے مہینے میں دستخط کی جانے والی مفاہمت کی یادداشت نے مشرق وسطی میں جنگ کے خاتمے اور ایرانی جوہری فائل سمیت متعدد مسائل کو حل کرنے کے لیے ساٹھ دن کے راستے کا آغاز کیا تھا۔
اس یادداشت کے ذریعے عالمی توانائی کی تجارت کے سٹریٹجک کوریڈور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی کا موقع ملا جسے ایران نے فروری کے آخر سے بند کر رکھا تھا جبکہ امریکا نے اس کے جواب میں ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کر لیا تھا۔
تاہم یہ بہتری زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی کیونکہ جولائی کے آغاز میں جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع ہو گئیں جس کے نتیجے میں مفاہمت کی یادداشت ٹوٹ گئی۔
امریکی بمباری کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد ایران نے اپنی پابندیاں مزید سخت کر دیں اور آبنائے ہرمز کو عبور کرنے کی کوشش کرنے والے وہ جہاز جو تہران کی اجازت کے بغیر ہوتے ہیں بار بار حملوں کی زد میں آنے لگے۔
عالمی امن کی امید :فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کل سعودی عرب جائیں گے

