خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ہنگامہ خیز صورتحال کے درمیان پاکستان نے ایک بار پھر واشنگٹن اور تہران کے مابین پسِ پردہ سفارت کاری (Back-channel diplomacy) میں کلیدی کردار ادا کرنے کی تیاری کر لی ہے۔
معروف صحافی ماریو نوافل کے مطابق اسلام آباد حکومت کی جانب سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر و اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کو پاکستان کے دورے اور امریکی ٹریک پر بات چیت کے لیے دعوت نامے بھیجنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
🇵🇰🇮🇷🇺🇸 Pakistan is back in the middle of the Iran-U.S. talks
Islamabad is reportedly preparing to invite Iran's FM Abbas Araghchi and top negotiator Mohammad Bagher Ghalibaf for talks on the American track.
It's a bold move for a country with plenty on its own plate, offering… pic.twitter.com/yzJIQB6rW9
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) August 3, 2026
اندرونی و بیرونی چیلنجز سے نبردآزما ہونے کے باوجود پاکستان کا یہ قدم ایک جرأت مندانہ سفارتی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ تہران کو واشنگٹن کے ساتھ اپنے اگلے لائحہ عمل پر غور کرنے کے لیے ایک دوستانہ، محفوظ اور نسبتاً غیر جانبدار ماحول فراہم کرنا اس وقت اس نازک بیک چینل کو زندہ رکھنے کے لیے انتہائی ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ کے منڈلاتے ہوئے بادلوں اور آبنائے ہرمز کے بحران کے تناظر میں، ایک ایسا مقام جہاں کے تعلقات دونوں فریقین (امریکہ اور ایران) کے ساتھ اچھے ہوں، سفارتی ڈیڈ لاک توڑنے کے لیے بہترین ثابت ہو سکتا ہے۔ عالمی مبصرین اور عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان روایتی طور پر دونوںممالک کے درمیان ثالثی کی صلاحیت رکھتا ہے، اور یہ نئی سفارتی کوششیں خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچانے میں سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہیں

