Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ایلون مسک کی اسپیس ایکس کا آوارہ راکٹ چاند سے ٹکرانے کو تیار، 3ٹن TNT کے برابر دھماکے سے 90 فٹ چوڑا گڑھا پڑ جائیگا

      ایپل کا بڑا بم: اب ”ہیلو ‘سری’ (Siri) “ سے پوچھنے کے لیے آئی فون صارفین کو بڑی قیمت چکانا ہوگی!

      لاہور ہائیکورٹ کا کرپٹو کرنسی پر اہم فیصلہ، جسٹس طارق سلیم شیخ نے اہم قانونی اصول طے کردیا

      سیاسی دشمنیاں بھلا کر پارلیمنٹ کا انوکھا اتحاد: پی ٹی آئی اور حکومت خواتین کو عبایا سے ’آزاد‘ کرانے پر ایک پیج پر آ گئے!

      کیا مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کی جنگ میں امریکا نے بازی پلٹ دی ہے؟ چینی روبوٹس پر پابندی کے بعد عالمی سطح پر کھلبلی مچ گئی!

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ڈبل شاہ سے ڈی پی او تک ,, سبق جو شاید ابھی تک نہیں سیکھا گیا

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر :اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
    پاکستان کی بیوروکریسی پولیس اور معاشرے کی تاریخ میں کچھ کردار ایسے ہیں جو صرف اپنے جرائم کی وجہ سے نہیں بلکہ لوگوں کی کمزوریوں کو بے نقاب کرنے کی وجہ سے بھی یاد رکھے جاتے ہیں۔ ڈبل شاہ انہی کرداروں میں سے ایک تھا۔ اس نے کسی کے گھر ڈاکہ نہیں ڈالا، کسی کو بندوق کی نوک پر لوٹا نہیں، بلکہ لوگوں کی لالچ نے خود اپنی دولت اس کے حوالے کی، اس امید پر کہ دولت راتوں رات دوگنی ہو جائے گی۔
    کہا جاتا ہے کہ جب اس کے خلاف کارروائی ہوئی تو کئی ایسے نام بھی سامنے آئے جو کبھی منظرِ عام پر آنے کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے۔ ایک ایمانداری کی وجہ سے مشہور سینئر پولیس افسر کے بارے میں بھی یہ دعویٰ سامنے آیا کہ ان سے متعلق ڈبل شاہ نے نیب حراست میں بتایا کہ یہ ایماندار پولیس افسر نے اسے 95 لاکھ کی خطیر رقم ڈبل کرنے کے لئے دی ، مگر جب متعلقہ افسر کو سمن کیا پوچھ گچھ ہوئی تو انہوں نے اس کی تردید کر دی اور پھر اس افسر سے تحریری بیان لیکر معاملہ وہیں ختم کر دیا گیا۔ سچ کیا تھا، اس کا فیصلہ تاریخ پر چھوڑ دیتے ہیں، لیکن ایک حقیقت آج بھی زندہ ہے کہ فراڈیے صرف عام آدمی کو نہیں، بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگوں کو بھی خواب بیچ دیتے ہیں۔ ڈبل شاہ نے کتنے لوگوں کو دھوکہ دیا، کتنے پڑھے لکھے، تجربہ کار اور بااختیار لوگ دھوکہ کھانے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ شائد تاریخ نے دوبارہ ڈبل نہیں بلکہ ٹرپل ورک کو دہرایا جس کے بارے دعوی کیا جا رہا ہے کہ 27 یا 45 ارب کا فراڈ کر کے آرام سے روانہ ہو گیا ۔ دوسری طرف پولیس میں ایک پرانی کہاوت مشہور ہے کہ "مجھاں مجھاں دیاں پیناں ہوندیاں نے”، یعنی بیج میٹ ایک دوسرے کا ہمیشہ ساتھ دیتے ہیں۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ ہر کہاوت ہمیشہ سچ نہیں ہوتی۔ ایک رینکر افسر جب ضلع کا ڈی پی او بنا تو اس کے ایک بیج میٹ نے صرف ایک اہلکار کی پوسٹنگ کی سفارش کر دی۔ سفارش ایسی بھی نہیں تھی کہ قانون ٹوٹ جاتا، لیکن ڈی پی او نے اسے اپنی خودمختاری پر حملہ سمجھا۔ اہلکار کے سامنے ہی سخت وارننگ دے دی کہ آئندہ سفارش کرائی تو ملازمت خطرے میں پڑ جائے گی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سفارش کرنے والا بھی شرمندہ ہوا اور سفارش کروانے والا بھی۔
    اگر سفارش اتنی ہی ناقابلِ برداشت تھی تو پھر وہ افسر خود کس دوسرے صوبے کے اعلی افسر کی سفارش پر اس کرسی تک پہنچا؟ اگر تقرریاں صرف میرٹ پر ہوتی ہیں تو سفارش کا غصہ صرف کمزور اہلکار پر کیوں اترتا ہے؟
    افسوس یہ ہے کہ ہمارے نظام میں بعض اوقات اصول بھی عہدے دیکھ کر بدل جاتے ہیں۔ بڑے لوگوں کی سفارش "اعتماد” کہلاتی ہے اور چھوٹے لوگوں کی سفارش "مداخلت اسی لیے سابق آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کا انداز آج بھی مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ اہم تقرریوں سے پہلے افسر کا ریکارڈ دیکھا جاتا تھا، فیلڈ سروس کو اہمیت دی جاتی تھی اور اگر کوئی اچھا فیلڈ افسر دفتر میں آنے کی خواہش کرتا تو اسے واضح پیغام دیا جاتا کہ بہترین افسر کی اصل جگہ میدانِ عمل ہے، نہ کہ ائیرکنڈیشنڈ دفتر۔ نظام افراد سے نہیں، اصولوں سے مضبوط ہوتا ہے۔ جب اصول سفارش کے تابع ہو جائیں تو پھر ڈبل شاہ صرف بازاروں میں نہیں، اداروں کے اندر بھی جنم لیتے رہتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ ایک عوام کی جیب خالی کرتا ہے اور دوسرا اداروں کا اعتماد۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ فراڈ ہمیشہ عقل کی کمی سے نہیں، خواہش کی زیادتی سے جنم لیتا ہے۔

    Related Posts

     کوچ پر فائرنگ، ڈرائیور جان بحق، مسافر زخمی

    کیا آپ بھی کھا رہے ہیں یہ ‘خوفناک’ پھل؟ شوگر کے مریضوں کے لیے بڑی وارننگ جاری!

    قطر سے آنے والے اوورسیز پاکستانی کو ائیر پورٹ سے اغواء کرنے کے بعد ق ت ل کر دیا گی

    مقبول خبریں

     کوچ پر فائرنگ، ڈرائیور جان بحق، مسافر زخمی

    کیا آپ بھی کھا رہے ہیں یہ ‘خوفناک’ پھل؟ شوگر کے مریضوں کے لیے بڑی وارننگ جاری!

    قطر سے آنے والے اوورسیز پاکستانی کو ائیر پورٹ سے اغواء کرنے کے بعد ق ت ل کر دیا گی

    بھارتی وزیراعظم نے جنتر منتر احتجاج میں والدہ کو گالیاں دینے والوں کے خلاف کیا قدم اٹھایا؟ ویڈیو پیغام وائرل!

    کیا صدام حسین بے قصور تھا؟ عراق حملے میں کیا ہوا!سابق افسر CIA اور مرکزی تفتیش کار کے اہم انکشافات

    بلاگ

    شانگلہ میں قیامت صغریٰ

    اٹک ؛ کوبرا گینگ کا خاتمہ، سہیل ظفر چٹھہ ، اور دو سردار پولیس افسر دہشت کے خلاف جنگ کے ہیرو بن گئے

    کاز ویز نہیں، پل چاہیے تھے! دلجبہ سیکٹر کے عوام آخر کب تک یہ منظر دیکھتے رہیں گے؟

    ”وہ باپ جو اپنے بچوں سے نہیں، مہنگائی سے ہار گیا“

    سرائے سدھو میں منشیات فروشوں کا راج

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.