دبئی:مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور امریکہ و اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے اثرات اب دبئی کی معیشت اور رئیل اسٹیٹ مارکیٹ پر واضح طور پر نظر آنے لگے ہیں۔ خریداروں کی جانب سے جائیدادوں کی خریداری میں تاخیر اور کمپنیوں کی جانب سے عملے کی منتقلی موخر کیے جانے کے باعث دبئی میں گھروں کی طلب میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
رئیل اسٹیٹ کنسلٹنسی فرم ’نائٹ فرینک‘ (Knight Frank) کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ریسرچ ہیڈ فیصل درانی کے مطابق، اگرچہ سال 2026 کے پہلے نصف میں مجموعی شہر کی فروخت کا حجم سال بہ سال صرف 13.6 فیصد کم رہا، تاہم مئی اور جون کے مہینوں میں مارکیٹ کی سرگرمیوں میں شدید گراوٹ آئی۔ مئی اور جون 2025 کے مقابلے میں اس سال ان مہینوں کے دوران گھروں کی خرید و فروخت بالترتیب 45 فیصد اور 16.4 فیصد تک کم ہو گئی۔ روایتی طور پر سست رو گرما کے مہینوں کے آغاز کے ساتھ ہی سودوں کے حجم میں مزید کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جائیداد کے پورٹل ’جوائی آئی کیو آئی‘ (Jwai IQI) کے مطابق بعض کیسز میں تنازعے کے باعث خریداروں کی طرف سے گھبراہٹ بھرے فون کالز بھی موصول ہوئیں۔
واضح رہے کہ اس جنگ سے قبل دبئی دنیا کی سب سے زیادہ متحرک لگژری ہاؤسنگ مارکیٹ کا درجہ رکھتا تھا، جہاں 2023 سے 2025 کے دوران ایک کروڑ ڈالر یا اس سے زائد مالیت کے گھروں کی سالانہ فروخت لندن اور نیویارک جیسے شہروں سے بھی زیادہ رہی تھی۔ ٹیکس میں چھوٹ اور تیز رفتار رہائشی پروگرامز نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا، جن میں چینی اور ہانگ کانگ کے سرمایہ کار بھی شامل ہیں جو غیر ملکی خریداروں کا تیسرا بڑا گروپ بنتے ہیں۔
اس جنگ کے باعث جہاں خریدار پس و پیش کا شکار ہیں، وہیں ڈویلپرز کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ جنوری کے بعد سے خلیج تعاون کونسل (GCC) کے چھ ممالک میں تعمیراتی مواد کی لاگت میں بیس فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔ سمندری مال برداری کے اخراجات، انشورنس پریمیم اور بندرگاہوں پر ضروری اشیاء بشمول خوراک اور ادویات کو ترجیح دیے جانے کی وجہ سے خام مال کی درآمد اب ڈویلپرز کے لیے انتہائی کٹھن اور مالی طور پر غیر سودمند ہوتی جا رہی ہے۔
تاہم رئیل اسٹیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ فروخت کے حجم میں کمی کے باوجود جائیدادوں کی بنیادی قیمتوں میں کوئی بڑا انہدام دیکھنے میں نہیں آیا۔ جے ایل ایل (JLL) کے بین الاقوامی رہائشی امور کے سربراہ فیلکس چیونگ کے مطابق، مارکیٹ میں قیمتوں میں وسیع پیمانے پر گرنے کے بجائے سودوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ نائٹ فرینک کے اعداد و شمار کے مطابق، جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک دبئی کی مین اسٹریم مارکیٹ میں قیمتیں مختلف علاقوں کے لحاظ سے 5 سے 20 فیصد تک گری ہیں، جو کہ 2008 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد اوسطاً 35 فیصد گراوٹ کے مقابلے میں کافی کم ہے۔
امریکا ایران جنگ کے اثرات: دبئی میں جائیدادوں کی خریداری رک گئی، تعمیراتی لاگت میں بھی ہوشربا اضافہ

