لندن:برطانیہ کے سابق شہزادے اینڈریو (جنہیں اب اینڈریو ماؤنٹ بیٹن-وینڈسر کہا جاتا ہے) کو لندن کی ہائی کورٹ نے 750,000 پاؤنڈز (تقریباً 10 لاکھ ڈالر) کی مالیاتی رقم سے متعلق ایک سویلین فراڈ کیس میں گواہی دینے کے لیے طلب کر لیا ہے۔
برطانوی شاہی خاندان کی تاریخ میں یہ پچھلے 156 سال کے دوران اپنی نوعیت کا پہلا سمن ہے جس کے تحت کسی سینئر شاہی شخصیت کو عدالت میں طلب کیا گیا ہو۔
تاہم، قانونی ماہرین کے مطابق اینڈریو کے پاس اس سمن کو منسوخ کرنے کی درخواست دینے کا قانونی حق موجود ہے، جس کے باعث ان کی عدالت میں باقاعدہ حاضری اور گواہی دینے کا فیصلہ فی الحال حتمی نہیں ہے۔
یہ مقدمہ ترکیہ کی شہری نیباہات ایویاب ایسپیلن نے اپنے سابق مالیاتی مشیر سلمان ترک کے خلاف دائر کر رکھا ہے۔ نیباہات کا الزام ہے کہ سلمان ترک نے ان کے کروڑوں پاؤنڈز کے فنڈز میں خورد برد کی ہے۔
نیباہات کا موقف ہے کہ سلمان ترک نے انہیں گمراہ کر کے 2019 میں 750,000 پاؤنڈز اینڈریو کو منتقل کروائے تھے۔
تاہم شاہ چارلس سوم کے چھوٹے بھائی اینڈریو نے مذکورہ رقم 2021 میں واپس کر دی تھی۔ واضح رہے کہ اینڈریو اس کیس میں نہ تو مدعی ہیں اور نہ ہی مدعا علیہ، بلکہ صرف بطور گواہ ان کا ذکر شامل ہے۔
دوسری جانب سلمان ترک کا دعویٰ ہے کہ یہ ادائیگی نیباہات کی منظوری سے کی گئی تھی تا کہ اینڈریو کے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے ترکیہ میں 2015 سے قید ان کے شوہر کی مدد حاصل کی جا سکے۔
برطانوی قانونی تاریخ دانوں کے مطابق شاہی خاندان کے کسی فرد کو عدالت میں گواہی کے لیے طلب کرنے کی آخری مثال 1870 میں سامنے آئی تھی۔
اس وقت کیلیے پرنس آف ویلز (جو بعد میں شاہ ایڈورڈ ہفتم بنے) کو ممبر پارلیمنٹ چارلس مورڈونٹ کی طلاق کے مقدمے میں بطور گواہ سمن جاری کیا گیا تھا۔ اس وقت کے شہزادے نے سمن کا احترام کرتے ہوئے عدالت میں حاضری دی تھی اور اپنے خلاف لگائے گئے نامناسب تعلقات کے تمام الزامات کو رد کیا تھا۔
اب تمام تر نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا اینڈریو ماؤنٹ بیٹن-وینڈسر ہائی کورٹ کے اس سمن کو منسوخ کروانے کی قانونی جنگ لڑیں گے یا 156 سال بعد تاریخ دہراتے ہوئے عدالت کے سامنے پیش ہوں گے۔
156 سال بعد برطانوی شاہی خاندان کی تاریخ میں نیا موڑ: سابق شہزادہ عدالت طلب

