نئی دہلی:کرپشن یا نئی سازش،بھارتی فوج کا نیا سکینڈل سامنے آ گیا ۔ انڈین فوج کے “مدراس رجمنٹ”کے محفوظ ترین اسلحہ خانے سے رائفلیں، پسٹل اور ہزاروں گولیاں چوری ہوگئیں۔
بی بی سی نے رپورٹ کیا ہے کہ سکندرآباد کینٹونمنٹ کے انتہائی محفوظ علاقے میں مدراس رجمنٹ کے اسلحہ خانے سے بھاری مقدار میں ہتھیار چوری ہو گئے۔اسلحہ خانے ،بٹالین میگزین، سٹور اور اندرونی ڈبوں کے تالے توڑ کر ہتھیار نکالے گئے۔ چوری ہونے والے اسلحے میں چار اے کے 203 رائفلیں، چھ نائن ایم ایم پستول اور ایک بور پستول شامل ہیں۔
چور پانچ اے کے 203 میگزین، تین 1B1 میگزین، نائن ایم ایم پسٹل کے 12 میگزین اور بور پسٹل کا ایک میگزین بھی لے گئے۔ چوری شدہ گولہ بارود میں اے کے 203 کی 720 اور نائن ایم ایم پسٹل کی 1,120 گولیاں شامل ہیں۔
بی بی سی کے مطابق فوجی حکام نے چوری شدہ اسلحے اور گولہ بارود کی مجموعی مالیت تقریباً 15 لاکھ بھارتی روپے بتائی ہے۔ واقعے کے باوجود فوج اور پولیس کی جانب سے تاحال کوئی تفصیلی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ مدراس رجمنٹ انڈین فوج کی قدیم ترین رجمنٹس میں شمار ہوتی ہے۔ بھارتی فوج میں چوبیس گھنٹے سخت نگرانی کے باوجود اسلحے کی چوری نے سکیورٹی انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارتی دفاعی اداروں میں چوری کے واقعات،مالی بے ضابطگیوں، رشوت، جعلی دستاویزات کے مقدمات سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ 2021 میں سی بی آئی نے فوجی بھرتیوں میں رشوت اور بے ضابطگیوں پر 17 فوجی اہلکار نامزد کیے تھے۔ آدرش ہاؤسنگ سکینڈل میں جنگی بیواؤں کے نام پر مختص قیمتی زمین سے فوجی افسروں سمیت بااثر افراد مستفید ہوئے تھے۔ اگست 2026 میں لیفٹیننٹ کرنل ڈی ماجی کی تین کروڑ روپے کی خریداری بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا تھا۔
دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج میں رشوت، مالی بدعنوانی اور اختیارات کا غلط استعمال عام بات ہے۔ ماضی کے دفاعی بدعنوانی مقدمات کے تناظر میں تحقیقات ممکنہ اندرونی معاونت پر بھی مرکوز ہونی چاہییں۔ فوجی نشان والے ہتھیار مستقبل میں کسی حملے، جعلی مقابلے یا فالس فلیگ کارروائی میں استعمال ہو سکتے ہیں۔
بھارتی فوج کا نیا سکینڈل سامنے آ گیا،مدراس رجمنٹ کے اسلحہ خانے سے بھاری مقدار میں ہتھیار چوری

