Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ایپل کا بڑا بم: اب ”ہیلو ‘سری’ (Siri) “ سے پوچھنے کے لیے آئی فون صارفین کو بڑی قیمت چکانا ہوگی!

      لاہور ہائیکورٹ کا کرپٹو کرنسی پر اہم فیصلہ، جسٹس طارق سلیم شیخ نے اہم قانونی اصول طے کردیا

      سیاسی دشمنیاں بھلا کر پارلیمنٹ کا انوکھا اتحاد: پی ٹی آئی اور حکومت خواتین کو عبایا سے ’آزاد‘ کرانے پر ایک پیج پر آ گئے!

      کیا مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کی جنگ میں امریکا نے بازی پلٹ دی ہے؟ چینی روبوٹس پر پابندی کے بعد عالمی سطح پر کھلبلی مچ گئی!

      گوگل پکسل 11 سیریز کی لانچنگ سے قبل اہم لیکس: سٹوریج، بیٹریاں اور قیمت سے متعلق اہم انکشاف

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    دوہی رستے ہیں ،دہشت گرد ہتھیار ڈال دیں وگرنہ سیکیورٹی فورسز انجام تک پہنچائیں گی ،ڈی جی آئی ایس پی آر

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    راولپنڈی :پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف 40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، جن میں 2 ہزار 84 مصدقہ دہشت گرد مارے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کے پاس صرف دو راستے ہیں، یا وہ قانون کے مطابق ہتھیار ڈال دیں یا پھر سیکیورٹی فورسز انہیں انجام تک پہنچائیں گی۔
    انسداد دہشت گردی اور سیکیورٹی کی مجموعی صورتحال پر پریس بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برس کے دوران ملک بھر میں بڑے پیمانے پر انسداد دہشت گردی آپریشنز کیے گئے۔
    انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر 40 ہزار 348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں سے 31 ہزار آپریشن بلوچستان جبکہ 7 ہزار 177 آپریشن خیبرپختونخوا میں کیے گئے۔
    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق رواں سال اب تک دہشت گردی کے 3 ہزار 145 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے کارروائیوں کے دوران 2 ہزار 84 مصدقہ دہشت گرد ہلاک کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزانہ اوسطاً 194 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے اور ہر روز اوسطاً 10 دہشت گرد مارے گئے۔
    انہوں نے بتایا کہ رواں سال دہشت گردی کے واقعات میں 819 افراد شہید ہوئے، جن میں 303 پاک فوج کے جوان، 194 قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور 322 شہری شامل ہیں۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ سال 2026 کے دوران اب تک 28 خودکش حملے ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بیشتر خودکش حملوں اور بم دھماکوں میں افغان باشندوں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں، جبکہ ٹانک اور کراچی میں پیش آنے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں بھی افغان شہری ملوث پائے گئے۔
    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بعض عناصر جان بوجھ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ بلوچستان میں حالات قابو سے باہر ہیں، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2023 میں پہلی مرتبہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہداء کی تعداد دہشت گردوں کی ہلاکتوں سے زیادہ رہی، لیکن اس کے بعد فورسز نے اپنی حکمت عملی مزید مؤثر بنائی، جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد یا تو قانون کے مطابق ہتھیار ڈال دیں یا پھر ریاست پوری قوت سے ان کا مقابلہ کرے گی۔
    انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور پائیدار امن کے قیام تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کو ریاست کے سامنے ہر صورت جھکنا ہوگا، ریاست سے وفاداری اور آئین و قانون کا احترام ہر شہری کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
    انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے منفی تاثر پھیلایا جا رہا ہے، جبکہ اصل مسئلہ دہشت گردی کے ساتھ ساتھ ایلیٹ ازم اور سرداری نظام ہے۔سیکیورٹی امور پر پریس بریفنگ کے دوران لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ بلوچستان میں حالات مسلسل خراب ہو رہے ہیں، حالانکہ زمینی حقائق اس سے مختلف ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت ”ہارڈ اسٹیٹ“ نہیں ہے۔ ان کے مطابق ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب یہ نہیں کہ ملک مسلح افواج کے زیرِ انتظام ہو، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آئین اور قانون سب پر یکساں طور پر نافذ ہوں اور کسی کے لیے بھی استثنا نہ ہو۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہارڈ اسٹیٹ میں ایلیٹ ازم کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اگر تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق چلائے جائیں تو پاکستان ایک حقیقی ہارڈ اسٹیٹ بن سکتا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ معاشرے میں ہر شخص اپنے حقوق کی بات کرتا ہے، لیکن یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم اپنے فرائض سے بھی آگاہ ہیں۔ بعض جگہوں پر حقوق کے لیے نعرے لگائے جاتے ہیں اور بعض مقامات پر اسلحہ اٹھایا جاتا ہے، اگرچہ کچھ مطالبات درست بھی ہو سکتے ہیں، لیکن ریاست سے وفاداری اور آئین و قانون کا احترام ہر صورت لازم ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ آئین ہر شہری کی بنیادی ذمہ داریاں واضح کرتا ہے اور سب کو اپنی ریاست کے ساتھ وفادار ہونا ہوگا۔ انہوں نے فیلڈ مارشل کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ حقوق کی بات کی جاتی ہے، مگر ذمہ داریوں پر کم توجہ دی جاتی ہے۔
    انہوں نے زور دیا کہ ہماری پہلی اور آخری شناخت پاکستانی ہونا چاہیے۔ ان کے بقول، ”ریاست ہے تو سیاست ہے، ریاست ہے تو جان ہے، ریاست ہے تو نام ہے۔“
    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان کا بنیادی مسئلہ ایلیٹ ازم اور سرداری نظام ہے۔ ان کے مطابق بعض بااثر طبقات اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بجائے خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ بعض لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ بلوچستان ہاتھ سے نکل رہا ہے، لیکن ایسے عناصر سے نہیں بلکہ بلوچستان کے اصل اسٹیک ہولڈرز، یعنی وہاں کے عوام سے بات کی جائے گی۔
    ان کا کہنا تھا کہ بعض سردار یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ان کے اثر و رسوخ کو پہلے جیسی اہمیت کیوں نہیں دی جا رہی۔ وہ لیویز فورس کو اپنی ذاتی فورس سمجھتے ہیں، اسمگلنگ کے لیے پرمٹ مانگتے ہیں اور سرکاری بھرتیوں، ترقیاتی بجٹ اور وسائل میں حصہ چاہتے ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اسمگل شدہ ڈیزل لا کر کئی گنا زیادہ قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے، جبکہ بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت اور قدرتی وسائل سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے بلوچستان کو بے شمار قدرتی نعمتوں سے نوازا ہے، مگر کچھ سردار استحصالی نظام کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ بھارت اور افغانستان کے درمیان ایک مشترک پہلو دہشت گردی کی سرپرستی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ احساسِ محرومی، احساسِ غیر نمائندگی اور لاپتا افراد کے معاملے کو پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ گوادر تقریباً ساڑھے تین لاکھ آبادی کا شہر ہے، جہاں اس وقت تین جامعات قائم ہیں، جو اس خطے میں تعلیمی ترقی کی عکاسی کرتی ہیں۔

    Related Posts

    طلبہ احتجاج: یوتھ کانگریس کا سوال- ’20 جولائی کو دفتر کے باہر پتھروں سے بھرا ٹرک کیسے پہنچا؟‘

    موسلادھار بارش، چھتیں گرنے سے پانچ افراد ذخمی 

    دو موٹرسائیکلوںمیں ٹکر، ، تین افراد زخمی

    مقبول خبریں

    طلبہ احتجاج: یوتھ کانگریس کا سوال- ’20 جولائی کو دفتر کے باہر پتھروں سے بھرا ٹرک کیسے پہنچا؟‘

    موسلادھار بارش، چھتیں گرنے سے پانچ افراد ذخمی 

    آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کی سنٹرل پولیس آفس میں کھلی کچہری

    یورپ میں کھلبلی: 60 ہزار تارکین وطن اسپین داخل، 32 لاشیں برآمد، فرانس ،اٹلی کی وارننگ!

    گڈ گورننس اور نئے صوبوں پر فیصلہ عوام اور سیاسی قیادت نے کرنا ہے: ترجمان پاک فوج

    بلاگ

    شانگلہ میں قیامت صغریٰ

    اٹک ؛ کوبرا گینگ کا خاتمہ، سہیل ظفر چٹھہ ، اور دو سردار پولیس افسر دہشت کے خلاف جنگ کے ہیرو بن گئے

    کاز ویز نہیں، پل چاہیے تھے! دلجبہ سیکٹر کے عوام آخر کب تک یہ منظر دیکھتے رہیں گے؟

    ”وہ باپ جو اپنے بچوں سے نہیں، مہنگائی سے ہار گیا“

    سرائے سدھو میں منشیات فروشوں کا راج

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.