دبئی + لندن :عالمی مارکیٹ میں پیر کے روز سونے کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ اور خام تیل کی قیمتوں میں تیزی بتائی جا رہی ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق، سرمایہ کار اس وقت انتہائی محتاط ہیں اور ان کی تمام تر توجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اہم فیصلے پر مرکوز ہے جو ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے مجوزہ معاہدے کے حوالے سے متوقع ہے۔ سیاسی صورتحال میں اس پیشرفت کے امکانات نے سونے کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ پیدا کر دیا ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں 0.2 فیصد کی کمی ہوئی، جس کے بعد یہ 4,527.36 ڈالر فی اونس پر آ گیا ہے۔ اسی طرح امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.8 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 4,558.10 ڈالر فی اونس کی سطح پر ٹریڈ کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ کاروباری سیشن میں سونا دو ہفتوں کی اپنی بلند ترین سطح پر موجود تھا۔ مقامی مارکیٹ میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 3100 روپے کی کمی ہوئی ہے جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 71 ہزار 762 روپے ہو گئی ہے۔
دس گرام سونے کے نرخ میں 2 ہزار 658 روپے کمی ہونے سے نئے نرخ 4 لاکھ 4 ہزار 459 روپے کی سطح پر آ گئے ہیں۔
ملک میں چاندی کی قیمت میں کوئی ردو بدل نہیں ہوا ہے ، چاندی کے فی تولہ نرخ 8 ہزار 34 روپے پر کی سطح پر برقرار ہیں۔
دوسری جانب، سونے کی عالمی طلب پر بھی دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔ بھارت میں بلند قیمتوں اور درآمدی ڈیوٹی (Import Duty) کے باعث خریداروں کی دلچسپی میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اسی طرح چین میں بھی سرمایہ کاروں کا محتاط رویہ سونے کی مانگ میں کمی کا باعث بن رہا ہے۔
ایک طرف جہاں سونے کی قیمتیں دباؤ کا شکار ہیں، وہیں دیگر قیمتی دھاتوں جیسے کہ چاندی، پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو مارکیٹ کے تنوع کو ظاہر کرتا ہے۔
عالمی منڈی: سونے کی چمک پھر ماند، سرمایہ کاروں کی نظریں ایران سے متعلق امریکی فیصلے پر مرکوز

