اسلام آباد :بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ساڑھے 400 سے 500 ارب روپے سے زائد کے نئے ٹیکس اقدامات، پالیسیوں اور انتظامی اصلاحات کی منظوری دے دی ہے۔ پارلیمنٹ سے توثیق کے بعد ان تمام انقلابی فیصلوں کا باقاعدہ اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔ نئے بجٹ میں ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے سخت ترین نفاذی اقدامات متعارف کرائے جا رہے ہیں۔
بینکنگ ڈیٹا کا استعمال اور نان فائلرز کا گھیرا تنگ
آئندہ مالی سال میں فائلرز اور نان فائلرز کے درمیان فرق کو مزید واضح اور سخت کیا جائے گا، جس کے لیے بینکوں کے ڈیجیٹل سسٹم کی مدد لی جائے گی۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ٹیکس چوروں اور نان کمپلائنٹ افراد کی پکڑ دھکڑ کے لیے حاصل شدہ ڈیٹا کا مؤثر ترین استعمال کیا جائے۔
انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت بینکوں کی جانب سے کی جانے والی دستی (Manual) رپورٹنگ کو اب آن لائن مانیٹرنگ سے تبدیل کیا جا رہا ہے، جس کے تحت ایف بی آر کو بینکوں کے مرکزی ڈیٹا بیس تک براہِ راست رسائی حاصل ہوگی۔
اس جدید مانیٹرنگ سسٹم اور نفاذی اقدامات کے ذریعے حکومت کو 2026-27 میں کم از کم 100 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ ہے۔
سپر ٹیکس برقرار، بیرونِ ملک اثاثوں پر ٹیکس ختم ہونے کا امکان
کارپوریٹ سیکٹر کے لیے اہم خبر یہ ہے کہ بجٹ 2026-27 میں سپر ٹیکس کو یکمشت ختم نہیں کیا جا رہا۔ حکومت اسے آئندہ 2 سے 3 سالوں کے دوران مرحلہ وار ختم کرے گی، یعنی اس سال سپر ٹیکس نافذ رہے گا۔ اس کے علاوہ انٹر کارپوریٹ ڈیویڈنڈ پر عائد ٹیکس بھی برقرار رہے گا۔
دوسری جانب، سال 2022 میں پاکستان سے باہر موجود اثاثوں پر نافذ کیا گیا 1 فیصد کیپیٹل ویلیو ٹیکس (CVT) ختم کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے، جس پر متعلقہ حکام کے مابین اصولی اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے تاہم حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔
مینوئل بلز کا خاتمہ: ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم کا مکمل نفاذ
ایف بی آر یکم جولائی 2026 سے ملک بھر میں ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم کو لازمی قرار دے رہا ہے۔
اہم اعلان: آئندہ مالی سال سے مینوئل یا دستی سیلز ٹیکس انوائسز کو بالکل قبول نہیں کیا جائے گا اور صرف کمپیوٹرائزڈ ڈیجیٹل بلز ہی قابلِ قبول ہوں گے۔ اس دستاویزی نظام سے حکومت کو مزید 100 ارب روپے کا ریونیو ملے گا۔
روزمرہ اشیاء پر ٹیکس کے دائرے میں توسیع (تھرڈ شیڈول)
حکومت سیلز ٹیکس ایکٹ کے تھرڈ شیڈول (تھرڈ شیڈول کے تحت ٹیکس مینوفیکچررز کی پرنٹ شدہ ریٹیل قیمت پر لیا جاتا ہے) کے دائرہ کار کو وسیع کر رہی ہے۔ آئی ایم ایف کی توثیق کے بعد اس فہرست میں مزید 20 سے 25 فاسٹ موونگ کنزیومر گڈز (FMCG) شامل کی جائیں گی جس سے 100 ارب روپے اکٹھے کیے جائیں گے۔
آئندہ بجٹ سے جن نئی اشیاء پر پرنٹ شدہ قیمت کے مطابق ٹیکس لگے گا ان میں شامل ہیں:
کیچپ اور انفنٹ فارمولا (بچوں کا دودھ)
دودھ اور دیگر ڈیری مصنوعات
کوکنگ آئل اور مختلف روزمرہ اشیاء
چھوٹے دکانداروں کے لیے بجلی بلوں پر مبنی ٹیکس اسکیم
ایسے ریٹیلرز اور دکاندار جن کا سالانہ ٹرن اوور 250 ملین روپے تک ہے، ان کے لیے حکومت ایک انتہائی آسان اور عملی ٹیکس اسکیم لا رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت دکانداروں کے ٹیکس کا تعین ان کے بجلی کے بلوں کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس اقدام سے حکومت کو 100 ارب روپے حاصل ہونے کی امید ہے۔ واضح رہے کہ بڑے مینوفیکچررز اور ٹیر-ون (Tier-1) ریٹیلرز اس اسکیم کا حصہ نہیں ہوں گے۔
بجٹ 2026-27، 500 ارب کے نئے ٹیکسوں کا نفاذ، نان فائلرز کے خلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ

