اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان میں ماحول دوست توانائی اور برقی گاڑیوں (Electric Vehicles) کو فروغ دینے کے لیے ایک انقلابی منصوبے کی تیاری کر لی ہے۔ نئی آٹو پالیسی 2026-31 کے تحت نیو انرجی وہیکلز (NEVs) کو موٹرویز اور نیشنل ہائی ویز پر ٹول ٹیکس سے مکمل استثنیٰ دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
اس پالیسی کا مقصد نہ صرف پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال بڑھانا ہے بلکہ ملک کے دہائیوں پرانے پروٹیکشنسٹ آٹو نظام کو جڑ سے بدل کر گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی خاطر خواہ کمی لانا ہے۔
برقی گاڑیوں (NEVs) کے لیے بڑی مراعات
ذرائع کے مطابق، ٹول ٹیکس کی چھوٹ ان تمام گاڑیوں کو ملے گی جو متبادل توانائی پر چلتی ہیں، جن میں شامل ہیں:
BEVs: مکمل بیٹری سے چلنے والی الیکٹرک گاڑیاں۔
PHEVs: پلگ ان ہائبرڈ گاڑیاں۔
FCEVs: فیول سیل (ہائیڈروجن) پر چلنے والی گاڑیاں۔
حکومت نے گاڑیوں پر عائد بھاری بھرکم ٹیکسوں کو مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عام آدمی کے لیے گاڑی خریدنا آسان ہو سکے:
ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی (ACD): مالی سال 2029 تک مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔
ریگولیٹری ڈیوٹی (RD): مالی سال 2030 تک اس میں 80 فیصد تک بڑی کٹوتی کی جائے گی۔
ایس آر او (SRO) کلچر کا خاتمہ: مخصوص مراعات والے تمام SROs کو 2030 تک ختم کر کے ٹیرف کا یکساں نظام لایا جائے گا۔
نئی پالیسی کے تحت اوسط ٹیرف کو مالی سال 2030 تک 6 فیصد سے بھی نیچے لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم، ان تمام مراعات اور فوائد کو ‘لوکلائزیشن’ یعنی پاکستان میں پارٹس کی تیاری سے مشروط کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کمپنیاں پاکستان میں اپنی گاڑیاں اور بیٹریاں تیار کریں گی، انہیں سب سے زیادہ ریلیف ملے گا۔

