کراچی / واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹنے اور امریکا و ایران کے درمیان امن مذاکرات میں پیش رفت کی خبروں نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کر دیا ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں جمعرات کو بھی خریداری کا شدید رجحان غالب رہا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس نے 172,000 کی نفسیاتی حد عبور کر کے تاریخ کی نئی بلند ترین سطح کو چھو لیا۔
صبح سویرے ہی مارکیٹ میں جارحانہ خریداری دیکھی گئی، جہاں انڈیکس محض چند منٹوں میں 1,269 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 172,974 کی سطح پر جا پہنچا۔ کمرشل بینکوں، آٹوموبائل، ریفائنریز اور تیل تلاش کرنے والی کمپنیوں میں غیر معمولی تیزی ریکارڈ کی گئی۔ایچ بی ایل (HBL)، ماری پیٹرولیم (MARI)، یو بی ایل (UBL) اور ایس ایس جی سی (SSGC) جیسے بڑے حصص سبز زون میں چمکتے رہے۔
عالمی مارکیٹوں میں جشن کا سماں
صرف پاکستان ہی نہیں، بلکہ عالمی سطح پر بھی امن کے امکانات نے اسٹاکس کو ریکارڈ بلندی پر پہنچا دیا ہے۔
جاپان کا معجزہ: جاپان کا نکئی انڈیکس طویل عرصے بعد 62,000 کی حد عبور کر گیا۔
ایشیائی ٹائیگرز: جنوبی کوریا اور تائیوان کے اسٹاکس بھی اے آئی (AI) اور امن مذاکرات کی بدولت نئی بلندیوں پر ہیں۔
ایم ایس سی آئی انڈیکس: ایشیا پیسیفک حصص کا انڈیکس اس ہفتے اب تک 7 فیصد بڑھ چکا ہے۔
امن معاہدہ اور تیل کی قیمتیں
سرمایہ کاروں کی اس خوشی کی سب سے بڑی وجہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری سفارتی کوششیں ہیں۔ تاجروں کا ماننا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے لیے کوئی مستقل امن فارمولا طے پا گیا تو عالمی سپلائی چین مستحکم ہو جائے گی۔
یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے درآمدی بل کم ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔امریکی ڈالر کی قدر میں کمی آئی ہے، جس سے ابھرتی ہوئی معیشتوں (Emerging Markets) کو ریلیف ملا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، "اگرچہ بحیرہ ہرمز کی صورتحال اب بھی مکمل طور پر واضح نہیں، لیکن امن معاہدے کے امکانات نے وہ سیاسی تناؤ ختم کر دیا ہے جو مارکیٹ کے لیے زہرِ قاتل تھا۔ پاکستان کے لیے تیل کی گرتی ہوئی قیمتیں اور بڑھتا ہوا انڈیکس معاشی استحکام کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔”

