میامی :مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے بیچ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکاایران کے خلاف متعدد آپشنز پر غور کر رہا ہے، جس میں اس کے تیل کے اہم مرکز خارگ جزیرے پر قبضہ کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔ اس اقدام سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
ٹرمپ نے آج دی فنانشل ٹائمز کے ذریعہ شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ "سچ پوچھیں تو میری پسندیدہ چیز ایران کا تیل لینا ہے، لیکن امریکامیں کچھ بیوقوف لوگ کہتے ہیں، ‘آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟’ وہ احمق لوگ ہیں۔”
انہوں نے مزید مشورہ دیا کہ جزیرہ خارگ پر قبضہ کرنے کے لیے اقدام کیا جانا چاہیے۔ ٹرمپ نے اخبار کو بتایا کہ "شاید ہم جزیرہ خارگ لے لیں، شاید ہم نہ لیں۔ ہمارے پاس بہت سے متبادل ہیں۔” "اس کا مطلب یہ بھی ہوگا کہ ہمیں وہاں (خارگ جزیرے پر) تھوڑی دیر کے لیے رہنا پڑے گا۔”
وہاں ایرانی دفاع کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ "مجھے نہیں لگتا کہ ان کے پاس کوئی دفاع موجود ہے، ہم اسے آسانی سے لے سکتے ہیں۔”
امریکاپہلے ہی جزیرے پر فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی حملے کر چکا ہے۔ دوسری جانب ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکی فوجی اس کی سرزمین پر اترے تو وہ بھی خلیجی عرب ممالک پر زمینی حملہ کرے گا اور نئے اہداف کو نشانہ بنائے گا۔
ٹرمپ نے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے آبنائے ہرمز سے تیل کے ٹینکروں کے گزرنے کی اجازت دی۔ فنانشل ٹائمز کا شائع کردہ انٹرویو میں ایران کی حکومت میں محمد باقر قالیباف کی اہمیت کا بھی تذکرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ "انہوں نے ہمیں 10” پاکستانی پرچم والے ٹینکرز دیے۔ "اب وہ 20 دے رہے ہیں اور ان 20 ٹینکرز کی ترسیل پہلے ہی شروع ہو چکی ہے، اور وہ آبنائے کے عین وسط میں چل رہے ہیں۔”
ٹرمپ نے قالیباف کے بارے میں اخبار کو بتایا کہ "وہ وہی ہیں جنہوں نے ہماری جہازوں کی اجازت دی۔” "یاد ہے، میں نے کہا تھا کہ وہ مجھے تحفہ دے رہے ہیں؟ اور سب نے پوچھا، ‘تحفہ کیا ہے؟’ انہوں نے ابتدائی طور پر اس کے بارے میں اپنا منہ بند رکھا۔اسی کے ساتھ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات بہت اچھے طریقے سے چل رہے ہیں۔” ٹرمپ نے کہا کہ امریکاایران کے ساتھ ’براہ راست اور بالواسطہ‘ مذاکرات کر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے تیل لے جانے والے 20 بحری جہازوں کو پیر کی صبح سے گزرنے کی اجازت دی اور اسے اگلے چند دنوں تک جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ٹرمپ نے اتوار کی رات ایئر فورس ون پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ "میں صرف یہ کہوں گا کہ ہم اس بات چیت میں بہت اچھا کر رہے ہیں۔ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا ایران نے امریکاکی طرف سے تجویز کردہ 15 نکاتی جنگ بندی کے منصوبے کا جواب دیا؟ انہوں نے کہا کہ انہوں نے جواب دیا ہے بلکہ "انہوں نے ہمیں زیادہ تر پوائنٹس پر جواب دیے، وہ ایسا کیوں نہیں کریں گے؟”
لیکن ٹرمپ نے ایران کے بارے میں پوچھے جانے پر تفصیلات پیش نہیں کیں۔ ان کے مطابق ایران بڑی رعایتیں دیتا دکھائی دے رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’’وہ ہم سے منصوبے پر متفق ہیں۔”
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای "زندہ ہو سکتے ہیں”۔ لیکن "وہ ظاہر ہے، بہت سنگین مصیبت میں ہیں۔ وہ شدید زخمی ہیں۔”

