برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان خود کو امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک اہم ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ فیلڈ مارشل آرمی چیف عاصم منیر نے اتوار کو امریکی صدر ٹرمپ سے بات چیت کی ہے۔
پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز، آرمی چیف و فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی کاوشیں رنگ لانے لگیں، امریکا اور ایران کو انگیج کرنے میں پاکستان بازی لے گیا اور اس حوالے سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اتوار کو بات چیت کام کرگئی۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے مشرق وسطی میں جنگ کی آگ ٹھنڈی کرنے کی کاوشوں میں پاکستان کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ طاقتور فوجی قیادت فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے ایران سے اپنے روابط اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپنے گہرے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ثالثی کی کاوشیں تیز کیں۔
اخبار کے مطابق پاکستان نے ٹرمپ ایران بحران روکنے کی کوشش کی، ایک جانب فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکا کا محاز سنبھالا تو دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی قیادت کو انگیج کیا۔
شہبازشریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بات کی، وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے ترکی کے ہم منصب سے پیر کو بات کی، ترکیہ نے بھی اسٹیوو وٹکاف سے بات چیت رکھی، پاکستانی رہنما بیک وقت ایران، وٹکاف اور جیرڈ کشنر سے رابطے میں تھے۔
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان امریکا کے ان چند اتحادیوں میں شامل ہے جن پر ایرانی میزائلز نہ برسے اور یہی وجہ تھی کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان غیرجانبدار ثالث کا کردار ادا کیا، مجتبی خامنہ ای نے بھی کہا تھا کہ وہ پاکستان کا خصوصی احترام کرتے ہیں۔
اخبار کے مطابق وائٹ ہاؤس نے اس معاملے میں تصدیق سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انتہائی حساس نوعیت کی معاملہ ہے، اسے میڈیا کے ذریعے بیان نہیں کیا جاسکتا۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اسی ہفتے اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے جب کہ برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق ثالثی ممالک کی کوشش ہے کہ بات چیت اسلام آباد میں ہو۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور کشیدگی کم کرانے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں سرگرم ہوگیا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان نے اسلام آباد کو ممکنہ مذاکراتی مقام کے طور پر پیش کیا ہے جہاں آئندہ دنوں میں اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔
مذاکرات میں ایران کی نمائندگی ایران کی مجلسِ شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف کریں گے جب کہ امریکا کی جانب سے اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر اور ممکنہ طور پر جے ڈی وینس شریک ہوں گے۔
پاکستان امریکا-ایران کشیدگی ختم کرانے کے لیے ‘کلیدی ثالث’ قرار”اسلام آباد میں تاریخی مذاکرات کا امکان، فنانشل ٹائمز کا دعویٰ”

