ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے نومنتخب وزیراعظم طارق رحمان نے ملک کو معاشی بحران سے نکالنے اور عوامی ٹیکس کے پیسے کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے سخت ترین "کفایت شعاری مہم” کا آغاز کر دیا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے جاری کردہ نئی ہدایات نے ملک بھر میں بیوروکریسی اور سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، جس کا مقصد حکومتی اخراجات میں بڑے پیمانے پر کٹوتی کرنا ہے۔
بنگلہ دیشی وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، طارق رحمان نے خود سے اصلاحات کا آغاز کرتے ہوئے درج ذیل پابندیاں عائد کر دی ہیں:
سرکاری گاڑیوں کی عیاشی ختم،پٹرول بھی خودڈلوانا ہوگا
وزیراعظم اور وزراء اب شاہانہ سرکاری گاڑیوں کے بجائے اپنی ذاتی گاڑیاں استعمال کریں گے۔
ذاتی اخراجات کا بوجھ: گاڑیوں کا ایندھن، ڈرائیور کی تنخواہ اور دیگر ذاتی اخراجات قومی خزانے کے بجائے وزیراعظم اور وزراء اپنی جیب سے ادا کریں گے۔
پروٹوکول میں کمی: وزیراعظم کا قافلہ جو پہلے 13 سے 14 گاڑیوں پر مشتمل ہوتا تھا، اسے اب محدود کر کے صرف 4 گاڑیوں تک کر دیا گیا ہے۔
عوامی آمد و رفت میں آسانی: سڑک کے دونوں اطراف طویل پولیس پروٹوکول اور ٹریفک بلاک کرنے کی روایت کو فوری طور پر ختم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ عوام کو پریشانی نہ ہو۔
ہیلی کاپٹر کا محدود استعمال: سرکاری ہیلی کاپٹر صرف انتہائی ناگزیر ریاستی دوروں یا غیر ملکی وفود کی آمد پر استعمال ہوگا، عام دوروں کے لیے اس کے استعمال پر پابندی ہوگی۔
سیکریٹریٹ میں اجلاس: تمام وزارتی اجلاس اب پرتعیش ہوٹلوں یا بیرونی مقامات کے بجائے سرکاری سیکریٹریٹ کے اندر ہی منعقد ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق، وزیراعظم طارق رحمان نے واضح کیا ہے کہ وہ ان ہدایات پر عملدرآمد کی خود نگرانی کریں گے۔ انہوں نے کابینہ کو پیغام دیا ہے کہ "طاقت مراعات کا نام نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے” اور اب وقت آگیا ہے کہ حکمران عوام کی طرح زندگی گزاریں۔
بنگلہ دیشی عوام اور سوشل میڈیا صارفین نے ان اقدامات کو ‘نئے بنگلہ دیش’ کی بنیاد قرار دیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف اربوں ٹکا کی بچت ہوگی بلکہ حکمرانوں اور عوام کے درمیان فاصلے بھی کم ہوں گے۔

