راولپنڈی :ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے نئے صوبوں سے متعلق بیان پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش سیکیورٹی اور دیگر مسائل کے حل کے لیے گڈ گورننس بنیادی ضرورت ہے اور اس کے بغیر امن و استحکام ممکن نہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف سے پریس بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے واضح کیا کہ وہ وزیر داخلہ کی گفتگو پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے کیونکہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے۔
انہوں نے کہا کہ محسن نقوی وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں اور انھیں حق حآصل ہے کہ وہ اپنی رائے دیں، اچھی حکمرانی پاکستان کے عوام کا حق ہے اور انھیں اس کی ضرورت ہے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق پاکستان کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے گڈ گورننس ناگزیر ہے۔ ان کے بقول، اچھی حکمرانی کے بغیر نہ ملک میں امن اور استحکام آسکتا ہے اور نہ ہی عوام کو درپیش مسائل کا مؤثر حل ممکن ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق موجود ہے اور دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ بھی اسی فریم ورک کے تحت تشکیل دیا گیا۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کی کامیابی کا دارومدار بھی مؤثر گڈ گورننس پر ہے، اس لیے اس حوالے سے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی گزشتہ چند دہائیوں میں کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ 1972 میں ملک کی آبادی تقریباً 7 سے 8 کروڑ تھی، جو اب بڑھ کر تقریباً 25 کروڑ ہو چکی ہے، جب کہ انتظامی ڈھانچہ بنیادی طور پر وہی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے مطابق مسائل حل نہیں ہو رہے، اس صورتِ حال پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ گڈ گورننس کو مؤثر بنایا جا سکے۔
یاد رہے کہ جمعرات کو اسلام آباد میں اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ موجودہ نظام مسائل حل کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے اور کوئی مانے یا نہ مانے، سسٹم ناکارہ ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے نئے انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کی جانب جانا ناگزیر ہے، کیونکہ موجودہ نظام کے ساتھ آگے بڑھنے سے آئندہ برسوں میں بھی یہی مسائل برقرار رہیں گے۔
گڈ گورننس اور نئے صوبوں پر فیصلہ عوام اور سیاسی قیادت نے کرنا ہے: ترجمان پاک فوج

