جنیوا/اسلام آباد: ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے جاری کوششوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق، معاہدے کی مفاہمت (MOU) پر دستخط جنیوا میں امریکی نائب صدر کریں گے، جس کے بعد تکنیکی نوعیت کے مشکل مذاکرات کا مرکز اسلام آباد منتقل ہو جائے گا۔ یہ تبدیلی اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس پورے عمل میں پاکستان نے ایک سہولت کار اور کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوسرے مرحلے کا اسلام آباد منتقل ہونا اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ پاکستان اب اس پورے عمل میں محض ایک پیغام رساں (courier) نہیں رہا، بلکہ اسے اب اس معاہدے کا ایک مستقل ضامن (permanent guarantor) تسلیم کر لیا گیا ہے۔ یہ سفارتی کامیابی خطے میں پاکستان کے بااثر کردار کی عکاسی کرتی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ہفتے فرانس میں ہونے والے G7 سربراہی اجلاس کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، وہ عالمی رہنماؤں سے اپیل کریں گے کہ وہ آبنائے ہرمز کی نگرانی میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ ایران کو معاہدے کی شرائط پر کاربند رہنے کا پابند بنایا جا سکے۔
یہ پیش رفت جہاں مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑے تنازعے کو ٹالنے کی جانب ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے، وہیں یہ سفارتی محاذ پر پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو بھی واضح کرتی ہے۔
اہم پیش رفت؛ ایران امریکا امن معاہدہ، پاکستان اب صرف قاصد نہیں، مستقل ضامن، وال اسٹریٹ جرنل

