ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ معاہدے کے حتمی شکل پانے کے بعد اس پر ’ڈیجیٹل طور پر‘ دستخط کیے جائیں گے، اور ایسا ’آنے والے دنوں میں‘ ہو سکتا ہے۔
اگر اس معاہدے پر دستخط ہو جاتے ہیں تو یہ فروری سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اب تک کی سب سے اہم سفارتی پیش رفت ہوگی۔ اس جنگ میں ہزاروں افراد جان سے جا چکے ہیں، جن میں زیادہ تر ایران اور لبنان کے شہری شامل ہیں اور عالمی توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
گذشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ اسلام آباد کی بھرپور ثالثی کی کوششوں کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کے حتمی متن پر اتفاق ہو گیا ہے۔
اپنے ایکس پیغام میں انہوں نے مزید کہا کہ امن معاہدے کا حتمی اور متفقہ متن طے پا چکا ہے اور پاکستان دونوں فریقین کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے اگلے مراحل کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کر رہا ہے۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا: ’جیسے ہی ہمارے مذاکرات کے حتمی مراحل مکمل ہوں گے، اس معاہدے پر دستخط کر کے اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔ دستخط ابتدائی طور پر ڈیجیٹل ہوں گے۔ ہر فریق دور بیٹھ کر دستخط کرے گا۔ اس کے بعد، یہ اعلان کیا جائے گا کہ دونوں فریقین نے اس مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں۔‘
اپنے انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ وہ اس فریم ورک کے ’مکمل اور حتمی‘ ہونے کے بعد اس کی تفصیلات کا اعلان کریں گے اور یہ کہ ابھی تفصیلات میں جانے سے ’معاہدے پر دستخط خطرے میں پڑنے‘ کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کے مسودے میں 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں کی جاری امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور سٹریٹیجک آبنائے ہرمز کا انتظام شامل ہے۔
عباس عراقچی نے مزید کہا: ’بحری ناکہ بندی مکمل طور پر ختم ہونی چاہیے۔ معاہدے میں مذکور یہ پہلا نکتہ ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ ’ایران نے یہ حتمی فیصلہ کر لیا ہے کہ آبنائے ہرمز کا انتظام اب پہلے جیسا نہیں رہے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے پر عمان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ہرمز اب ایران کے ’ڈیٹرنس کے اہم ذرائع‘ میں سے ایک ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ فریم ورک پر دستخط ہونے کے بعد 60 دن کے عرصے کے دوران ایران کے ایٹمی پروگرام کی تفصیلات پر بات کی جائے گی، جس میں انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ بھی شامل ہے، جو واشنگٹن کے لیے ایک متنازع مسئلہ ہے۔
عراقچی نے کہا: ’ہمارا مؤقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ افزودہ مواد کے ذخیرے سے نمٹنے کا واحد طریقہ اسے ایران کے اندر ہی تحلیل کرنا ہے۔‘
امریکی انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدے دار نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران نے ایک معاہدے کے متن پر اتفاق کر لیا ہے اور واشنگٹن کو توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں ابتدائی معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک امریکی عہدے دار نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ معاہدہ ٹرمپ کے بنیادی مقاصد کو پورا کرتا ہے اور اس نے مذاکرات کو ’بہت، بہت اچھی جگہ‘ پر پہنچا دیا ہے۔

