اسلام آباد/کراچی: مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور عالمی سپلائی چین میں تعطل کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے ہوش ربا اضافے نے پاکستان کے معاشی افق پر خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ عالمی ماہرین کی جانب سے تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک جانے کی پیشگوئی نے پاکستانی عوام کے ہوش اڑا دیے ہیں، جو پہلے ہی کمر توڑ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
تیل صرف ایک ایندھن نہیں بلکہ پوری معیشت کا پہیہ ہے، اس کی قیمت میں اضافہ براہِ راست درج ذیل شعبوں پر اثر انداز ہوگا:
ٹرانسپورٹ اور مال برداری: پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے ٹرکوں اور بسوں کے کرایوں میں فوری اضافہ ہوگا، جس کا نتیجہ منڈیوں میں سبزیوں، پھلوں اور اناج کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں نکلے گا۔
بجلی کے نرخ: پاکستان کا ایک بڑا حصہ فرنس آئل اور آر ایل این جی سے بجلی پیدا کرتا ہے۔ تیل مہنگا ہونے سے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام پر بجلی کے بل عوام کے لیے "بجلی کا جھٹکا” ثابت ہوں گے۔
صنعتی پیداوار: کارخانوں کو چلانے کے اخراجات بڑھنے سے کپڑے، ادویات اور پلاسٹک سمیت ہر روزمرہ کی چیز کی قیمت بڑھ جائے گی۔
عوام کی زندگی پر ممکنہ اثرات
سفید پوش طبقے کی مشکلات: تنخواہ دار طبقے کے لیے آمدنی اور اخراجات میں توازن برقرار رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔ تعلیمی اخراجات اور صحت کی سہولیات مزید پہنچ سے دور ہو سکتی ہیں۔
غذائی قلت کا خدشہ: ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل 150 ڈالر سے تجاوز کر گیا تو پاکستان میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں 30 سے 40 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے غریب طبقہ شدید متاثر ہوگا۔
بچت کا خاتمہ: مہنگائی کی اس لہر کی وجہ سے لوگ اپنی جمع پونجی نکالنے پر مجبور ہو جائیں گے، جس سے ملک میں طویل مدتی معاشی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
معاشی ماہر ین کا کہنا ہے کہ "پاکستان ایک درآمدی معیشت ہے، جب ہم باہر سے مہنگا تیل خریدیں گے تو ہم ‘مہنگائی درآمد’ (Imported Inflation) کر رہے ہوں گے۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر فیول سبسڈی اور ٹارگٹڈ ریلیف فراہم کرنا ہوگا۔”
عالمی بحران اور پاکستان میں مہنگائی کا ہولناک سونامی— کیا عوام اس کا بوجھ اٹھا سکیں گے؟

