تہران :ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی ہے۔ عاصم منیر ایران کے اعلیٰ حکام سے بات چیت کے لیے منگل کو تہران پہنچے تھے اور اُن کے ساتھ اس دورے پر پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی ہیں۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے ساتھ ساتھ فیلڈ مارشل بھی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔
جنگ بندی کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تہران کا یہ چوتھا سرکاری دورہ ہے۔
اس سے قبل دو ستمبر کو اپنے دورۂ ایران کے دوران انھوں نے صدر مسعود پزشکیان، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی، پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف، وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور وزیرِ داخلہ سکندر مومنی سے ملاقاتیں کی تھیں۔
اب سے کُچھ دیر قبل یہ خبر بھی ایرانی خبر رساں ادارے ارنا پر سامنے آئی تھی کہ پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ’پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھے گا۔‘
منگل کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ حکومت کے 25ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ’پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ علاقائی کشیدگی کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری سب سے مؤثر ذرائع ہیں۔‘
ایران کے دورے پر موجود پاکستان فوج کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف سے ملاقات کی ہے۔ جبکہ قبل ازیں انہوں نے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی سے بھی ملاقات کی جس میں اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا
ایرانی خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کی جانب سے امریکہ کو پیش کی گئی سات شرائط پورا ہونے تک امریکہ ایران کا اعتماد حاصل نہیں کر سکتا۔
باقر قالیباف نے کہا کہ ’ایران جنگ پسند نہیں ہے، لیکن وہ اپنے وطن اور قومی وقار کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔‘
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے کہا کہ دھمکیاں اور فوجی مشقیں ایران کے سٹریٹجک فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ امریکہ ہی تھا جو غلط اندازوں اور ایران کے خلاف جنگ چھیڑنے کی وجہ سے خود ایک دلدل میں پھنس گیا؛ اب یہ انھی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائیں۔




