اسلام آباد :سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان نے 2024 کے جنرل الیکشن کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے نئے عام انتخابات کا مطالبہ کر دیا مولانا فضل الرحمان نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ 2024 کے عام انتخابات کے نتائج مسترد کرتے ہیں، ملک میں دوبارہ فوری اور شفاف انتخابات کروائے جائیں.انہوں نے کہا کہ گورنرشپ سے متعلق جو بات کی گئی وہ سراسر جھوٹ ہے یہ ہماری توہین ہے، میں مطالبہ کروں گا تو گورنرشپ کا نہیں وزیر اعظم کے عہدے کا کروں گا ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی (ف) کا کالعدم ٹی ٹی پی اور کسی تنظیم سے کوئی رابطہ نہیں، دہشتگردی کے خلاف ہماری جماعت کی قربانیاں ہیں، ہماری جماعت، عہدیداران، علما اور مدارس بھی غیر محفوظ ہیں، میری زندگی اور میرے مدارس اب غیر محفوظ ہو چکے ہیں.
سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم میں نظام کو کمزور کرنے کی ترمیم ہم نے واپس کی تھی، 27ویں آئینی ترمیم میں ارکان کو خرید کر وہی ترامیم منظور کروائی گئیں، معیشت کمزور ہے اور حکومتی اقدامات کا عوام پر کوئی اثر نہیں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اب آپ قتل کر چکے ہیں تو کس چیز پر مذاکرات کریں گے؟ پی ٹی آئی حکومت آپریشن کے معاملے میں کہاں رکاوٹ بن رہی تھی؟.
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ کے پی کے میں گورنر راج کو مسترد کرتے ہیں،ہماری جماعت سیاسی مکالمے پر یقین رکھتی ہے جے یو آئی کے امیر نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں پر تحفظات ہوں تو الزام تراشیوں کی بجائے سیاسی انداز میں جواب دیا جانا چاہئے ہمیں یا کسی کو شکایات ہیں تو پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلاکر بات کر لی جائے.
مولانا فضل الرحمان کے پی کے میں گورنر راج کو مسترد کرتے ہیں گورنر راج کے لیے حکومتی بیانیہ بے بنیاد ہے کئی آپریشنز ہوئے مگر نتایج کیاملے مسلم لیگ نون کی حکومت نے فاٹاکو صوبے میں شامل کیا آج وہی مسلم لیگ نون سابق فاٹا کو مرکز میں دے چکی ہے. انہوں نے کہاکہ ہماری نظر میں یہ سب صوبے کی معدنیات پر کنٹرول کے لئے ہے حکومت پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلائے گورنر راج بلاجواز ہے کونسلز کی تشکیل میں جے یو آئی کا کوئی رکن شامل نہیں ہوگا .
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اقتدار ہٹانا بنانا طاقت کی بجائے آئین کے مطابق ہونا چاہئے ذوالفقار علی بھٹو اور آصف علی زرداری نے گورنر راج لگائے کیا اس وقت اس کو مانا گیا صدر نے اطمینان کے بغیر دستخط کرکے آئینی تقاضے کی نفی کی. مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مرکزی مجلس شوریٰ نے گورنر راج اور ایمرجنسی کو مسترد کردیا ہے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ دو روزہ اجلاس میں مرکزی شوریٰ نے اہم فیصلے کیے ہیں انہوں نے کہا کہ سیاسی اور دیگر معاملات پر مکالمے پر یقین رکھتے ہیں عوام دشمن حکومتی پالیسیوں کا معقول جواب دینا چاہیے.
جے یو آئی کے امیر کا کہنا تھا کہ مرکزی مجلس شوریٰ نے گورنر راج اور ایمرجنسی کو مسترد کردیا ہے حکومت کے یہ اقدامات بدنیتی پر مبنی ہیں مولانا فضل الرحمان نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کا ان کیمرا اجلاس بلایا جائے اور اعتماد میں لیا جائے. انہوں نے یہ بھی کہا کہ گورنر راج سے ملک کا بڑا سیاسی نقصان ہوگا صدر مملکت نے قانونی پہلووں کی پیروی نہیں کی، یہ آئینی تقاضوں کی نفی ہے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم نے حکومت میں ہوتے ہوئے اپنی آزادانہ مخالف رائے بھی دی ہے ہم سمجھ رہے ہیں کہ عالمی سطح پر تبدیلیاں آرہی ہیں چین عالمی مالیات کا گڑھ بنتا جارہا ہے ہمارا منشور کہتا ہے کہ ایک اسلامی بلاک ہونا چاہیے.
انہوں نے کہا کہ او آئی سی کمزور پلیٹ فارم ہے، نیا سیاسی معاشی اور دفاعی اتحاد ہونا چاہیے، ہم سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے ناجائز ہیں ہم چاہتے ہیں کہ دنیا بدل رہی ہے تو ہمیں بھی وہی انداز اپنانا ہوگا ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے جب پاکستان پر جارحیت کی تو سب سے پہلے ہم نے آواز اٹھائی پاکستان نے ایران، امریکا کے درمیان مصالحتی کردار ادا کیا تو سب سے پہلے خیرمقدم کیا مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی نے عوام اور دینی حلقوں میں دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھائی ہے.

