نیویارک: ممتاز امریکی ماہرِ معیشت ہنریٹا ٹریز (Henrietta Treyz) نے عالمی صارفین کو خبردار کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران جنگ کی وجہ سے آسمان کو چھوتی قیمتیں جلد نیچے آنے والی نہیں ہیں۔ ان کے مطابق، اگر آج جنگ ختم ہو جائے اور تزویراتی طور پر اہم ‘آبنائے ہرمز’ فوراً کھل بھی جائے، تب بھی قیمتوں کو معمول پر آنے میں کم از کم 200 دن لگیں گے۔
رپورٹ کے اہم ترین نکات:
آبنائے ہرمز کا بحران: دنیا کے 20 فیصد تیل کی گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ کی بندش نے عالمی سپلائی چین کو مفلوج کر دیا ہے۔ ہنریٹا کے مطابق اس راستے کا فوری کھلنا فی الحال ناممکن نظر آتا ہے۔
مہنگائی کا سونامی: خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں معیشت کے ہر شعبے کو متاثر کر رہی ہیں۔ یہ صرف پیٹرول تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات ایک ‘سلسلے’ (Cascade) کی صورت میں برسوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
کون کون سے شعبے نشانے پر ہیں؟
ہوائی سفر: طیاروں کے ایندھن (Jet Fuel) کی قیمتیں بڑھنے سے ٹکٹ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائیں گے۔
غذائی اشیاء: لاجسٹکس اور کھاد کی قیمتوں میں اضافے سے کھانے پینے کی چیزیں مزید مہنگی ہوں گی۔
ٹیکنالوجی: سیمی کنڈکٹر چپس (Semiconductors) کی قیمتوں میں اضافہ الیکٹرونکس اور گاڑیوں کی صنعت کو متاثر کرے گا۔
شرحِ سود: معاشی عدم استحکام کے باعث بینکوں کی شرحِ سود (Interest Rates) میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کی رائے: "تیار ہو جائیں”
ویڈا پارٹنرز (Veda Partners) کی بانی ہنریٹا ٹریز کا کہنا ہے کہ:
"اگر آپ ہوائی جہاز کا ٹکٹ خریدنا چاہتے ہیں یا کوئی بھی خریداری کرنا چاہتے ہیں، تو یاد رکھیں کہ اس جنگ کی قیمت پوری معیشت کو چکانی پڑے گی۔ یہ بوجھ آنے والے کئی برسوں تک عوام کے کندھوں پر رہے گا۔”
"مہنگائی اب مستقل ہے!” امریکی ماہرِ معیشت کی ہولناک وارننگ— ایران جنگ کے اثرات برسوں تک پیچھا کریں گے،

