نیویارک/تہران : مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ چوتھے ہفتے میں داخل ہوتے ہی ایک خطرناک نہج پر پہنچ گئی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دیے گئے الٹی میٹم اور ایران کی جوابی دھمکیوں نے عالمی منڈیوں میں زلزلہ برپا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں اور ایشیائی اسٹاک مارکیٹس کریش کر گئی ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے آخر میں جاری ایک بیان میں ایران کو سخت وارننگ دی ہے کہ اگر پیر کی شام تک آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بحال نہ کی گئی تو امریکہ ایران کے بجلی گھروں کو ’ملیا میٹ‘ (Obliterate) کر دے گا۔
اس کے جواب میں ایران نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکہ نے کوئی بھی جارحانہ قدم اٹھایا تو آبنائے ہرمز کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا جائے گا اور اسے تب تک نہیں کھولا جائے گا جب تک تباہ شدہ بجلی گھر دوبارہ تعمیر نہیں ہو جاتے۔ ایران نے مزید دھمکی دی ہے کہ وہ خطے میں موجود امریکی اور اسرائیلی توانائی اور مواصلاتی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنائے گا۔
خام تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ
اس کشیدگی کے باعث پیر کے روز عالمی مارکیٹ کھلتے ہی تیل کی قیمتوں میں زبردست تیزی دیکھی گئی:
برینٹ کروڈ: 1.69 فیصد اضافے کے ساتھ 114.09 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
امریکی خام تیل (WTI): 2 فیصد اضافے کے ساتھ 100.29 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
مستقبل کی پیشگوئی: عالمی مالیاتی ادارے ‘گولڈمین سیکس’ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ تیل کی یہ بلند قیمتیں 2027 تک برقرار رہ سکتی ہیں۔
ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مندی کا طوفان
توانائی کے بحران نے ایشیائی معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پیر کی صبح جاپان کا Nikkei 225 انڈیکس 3.5 فیصد، جنوبی کوریا کا Kospi 4.9 فیصد جبکہ ہانگ کانگ کا Hang Seng 2.7 فیصد گر گیا۔ جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک اپنی تیل کی ضروریات کے لیے مکمل طور پر خلیجی ممالک پر منحصر ہیں اور آبنائے ہرمز کی بندش ان کے لیے معاشی موت کے برابر ہے۔
عام آدمی پر اثر: پیٹرول 4 ڈالر کے قریب
امریکہ میں عام صارفین کے لیے مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ اتوار کے روز پیٹرول کی اوسط قیمت 3.94 ڈالر فی گیلن رہی، جس کے پیر تک 4 ڈالر سے تجاوز کرنے کا قوی امکان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ آج ختم بھی ہو جائے تو مارکیٹ کو واپس اپنی جگہ پر آنے میں طویل وقت لگے گا۔

