تحریر :اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
کسی بھی ادارے کی اصل طاقت اس کے وسائل نہیں بلکہ اس میں موجود وہ دیانتدار اور پیشہ ور افراد ہوتے ہیں جو روایتی سستی اور کاہلی کے برعکس بروقت، جرأت مندانہ اور سائنسی بنیادوں پر فیصلے کرتے ہیں۔ حال ہی میں لاہور کے قلب میں پیش آنے والا ایک واقعہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اگر پولیس کی کمانڈ ایسے افسران کے ہاتھ میں ہو جو جرأت، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کا درست استعمال جانتے ہیں تو نہ صرف ادارے کی کھوئی ہوئی عزت بحال ہوتی ہے بلکہ انصاف کے تقاضے بھی پورے ہوتے ہیں۔ کریم بلاک کے قریب ایک حساس عہدے پر فائز باصلاحیت شخصیت، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان سے ان کی کار سے جھپٹا مار کر موبائل فون چھین لیا گیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کے اعلی افسران حرکت میں آگئے ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا مقامی پولیس و دیگر ٹیموں نے ہمیشہ کی طرح روایتی جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہوئے متعدد مشکوک افراد کو حراست میں تو لے لیا اس حوالے سے سیکرٹری اسٹیبلیشمنٹ نو آگاہ کیا لیکن اصل موبائل کی ریکوری کے نام پر ہمیشہ کی طرح خاموشی چھا گئی۔ ایسے مواقع پر عموماً روایتی طریقوں کا سہارا لیا جاتا ہے جہاں متاثرہ شخصیت کو یا تو کوئی سستا سا متبادل فون تھما کر معاملے کو رفاقت یا مصلحت کے تحت رفع دفع کر دیا جاتا ہے یا پھر کیس کو فائلوں میں الجھا دیا جاتا ہے لیکن اس بار معاملہ ایک اعلیٰ سرکاری شخصیت کا تھا اور دوسری طرف معاملات کی نوعیت یکسر مختلف تھی۔ جب یہ اہم ٹاسک ڈی آئی جی ایڈمن لاہور عمران کشور کے سپرد کیا گیا تو انہوں نے روایتی دباؤ یا شارٹ کٹ اختیار کرنے کے بجائے اس کیس کو ایک پروفیشنل چیلنج کے طور پر قبول کیا۔ انہوں نے نظام کی اصلاح کی وہ مثال قائم کی جو آنے والے وقتوں میں پولیس ٹریننگ کا حصہ بننی چاہیے۔ عمران کشور نے سب سے پہلے متعلقہ تھانے میں گزشتہ تین سالوں کے دوران پیش آنے والی جھپٹا ماری کی وارداتوں کا ریکارڈ طلب کیا۔ اس کے بعد جدید سائنسی انداز اپناتے ہوئے ان تمام وارداتوں کے دورانیے کا جیو فینسنگ ڈیٹا حاصل کیا اور اس کا گہرائی سے تجزیہ کیا۔ ڈیٹا کے اس تجزیے نے ایسے نمبرز کو بے نقاب کیا جن کی لوکیشن ماضی کی وارداتوں میں بھی مشکوک پائی گئی۔ جب ایک مرکزی ملزم کو ٹریس کیا گیا تو اس نے انکشاف کیا کہ وہ خود تو اب ایسی وارداتیں چھوڑ چکا ہے البتہ وہ اپنے پرانے ساتھیوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ پولیس نے جب اسے ملزمان کی دھندلی تصاویر دکھائیں تو اس نے فوری طور پر پاکپتن کے رہائشی اصل ملزم کی شناخت کر دی۔ تحقیقات کا دائرہ بڑھا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک منظم بین الصوبائی اور بین الاقوامی نیٹ ورک تھا جہاں چھینے گئے بیش قیمتی موبائل فونز کو پہلے بلوچستان اور پھر افغانستان اسمگل کیا جاتا تھا اور وہاں ان کے آئی ایم ای آئی نمبر تبدیل کرکے انہیں دبئی اور دیگر ممالک میں فروخت کر دیا جاتا تھا۔ پولیس نے حکمتِ عملی کے تحت ملزم کی اہلیہ کے ذریعے فون خریدنے والے سبزہ زار کے ایک نوجوان سے رابطہ کیا اور ایک پیچیدہ اسٹنگ آپریشن کے ذریعے اس نیٹ ورک کے کارندے کو پکڑا جس نے دورانِ تفتیش انکشاف کیا کہ اس وقت فونز افغانستان کی سرحد کی طرف روانہ کیا جا رہا ہے۔ ڈی آئی جی عمران کشور کی ذاتی نگرانی میں اس نیٹ ورک کے بلوچستان میں موجود کارندے سے رابطہ کیا گیا اور جب فون کی تصدیق کے لیے واٹس ایپ پر تصاویر کا تبادلہ ہوا تب کہیں جاکر تفتیشی ٹیم کو اطمینانِ قلب نصیب ہوا۔ پولیس نے حکمتِ عملی کے ساتھ اس فون کو ملزم کے اصل ایڈریس پر واپس منگوایا اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو وہی فون بحفاظت واپس لوٹایا۔ اس واقعے نے ایک تلخ سچائی کو بے نقاب کیا ہے کہ اگر اس کیس میں بھی روایتی طریقہ اپنایا جاتا تو شاید کاغذی کارروائی پوری کرنے کے لیے کوئی بھی عام سا فون ریکوری میں ڈال کر فائل بند کر دی جاتی لیکن اس موبائل میں موجود انتہائی حساس اور اہم ڈیٹا کی حفاظت اور ڈی آئی جی عمران کشور کے بروقت سائنسی اقدامات نے نہ صرف ایک بڑے بین الاقوامی ریکٹ کا پردہ فاش کیا بلکہ اس تاثر کو بھی زائل کیا کہ نظام میں بہتری کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔ یہ واقعہ تمام پولیس افسران کے لیے ایک واضح مشعلِ راہ ہے اور اب یہ اعلیٰ حکام پر منحصر ہے کہ وہ فرائض کی انجام دہی کے لیے روایتی اور شارٹ کٹ طریقوں کو ترجیح دیتے ہیں یا عمران کشور جیسے افسران کے اپنائے گئے پروفیشنل، سائنسی اور جرأت مندانہ اندازِ کار کو اپنا کر محکمہ پولیس کا وقار ہمیشہ کے لیے بلند کرتے ہیں۔
دوسری جانب، پنجاب پولیس کے اعلیٰ انتظامی حلقوں میں بڑی تبدیلیاں بھی متوقع ہیں۔ ذرائع کے مطابق آر پی او شیخوپورہ اطہر اسماعیل کو طویل مدتی پوسٹنگ کے بعد کسی انتہائی اہم اور کلیدی عہدے پر منتقل کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ ڈی پی او اٹک کیپٹن (ر) علی بن طارق کا تبادلہ وفاقی اسلام آباد پولیس میں متوقع ہے، جس سے آنے والے دنوں میں پولیس کی کمانڈ میں مزید اہم تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی۔


