واشنگٹن:امریکا میں ویکسینیشن پالیسی کے مستقبل کا تعین کرنے والے اہم فیصلوں کا عمل جاری ہے، جس سے نہ صرف صحتِ عامہ کے نظام بلکہ ویکسین پر عوامی اعتماد پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
امریکی سیکریٹری صحت رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے اقتدار سنبھالتے ہی طبی و دوا سازی کے شعبے میں اصلاحات اور ویکسین پر عوامی اعتماد بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم، ان کے اقدامات، بالخصوص بچوں کی حفاظتی ٹیکوں (immunization) کے شیڈول میں تبدیلی اور کووِڈ ویکسین کے لیے اہلیت کے معیار کو محدود کرنے جیسے فیصلوں نے سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔ ناقدین کا الزام ہے کہ یہ پالیسیاں سائنسی حقائق کے منافی اور غلط معلومات پر مبنی ہیں۔
عدالتی مداخلت اور قانونی جنگ
گزشتہ چند ماہ کے دوران کینیڈی کی پالیسیوں کو شدید قانونی چیلنجوں کا سامنا رہا ہے۔ مارچ 2026 میں ایک وفاقی عدالت نے ان کے ویکسینیشن کے نئے شیڈول اور ’ایڈوائزری کمیٹی آن امیونائزیشن پریکٹسز‘ (ACIP) میں کی گئی تقرریوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے معطل کر دیا تھا۔ عدالتی حکم کے تحت ویکسینیشن کا نظام فی الحال مئی 2025 والی پرانی حالت پر واپس چلا گیا ہے، تاہم موجودہ حکومت اس فیصلے کے خلاف اپیل کر چکی ہے۔
سیاسی اور سماجی اثرات
عوامی اعتماد میں کمی: ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ حکومتی سطح پر ہونے والی اس کشمکش نے عوام میں ویکسین کے حوالے سے شکوک و شبہات کو ہوا دی ہے۔
خسرہ کے کیسز میں اضافہ: امریکا میں خسرہ (measles) جیسے امراض کے کیسز میں تیزی دیکھی گئی ہے، جسے طبی ماہرین ویکسینیشن کی شرح میں کمی کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
سیاسی حکمت عملی: وسط مدتی انتخابات قریب آنے کے ساتھ ہی انتظامیہ اپنی سخت گیر پالیسیوں کو کچھ حد تک نرم کرنے کے اشارے دے رہی ہے تاکہ سیاسی نقصان سے بچا جا سکے۔
یونیورسٹی آف مینیسوٹا کے ’سینٹر فار انفیکشس ڈیزیز ریسرچ اینڈ پالیسی‘ کے ڈائریکٹر مائیکل اوسٹ ہولم کا کہنا ہے کہ "اس تنازع نے عوامی اعتماد کو جو نقصان پہنچایا ہے، اسے دوبارہ بحال کرنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔”
فی الحال، امریکا کی طبی دنیا اور حکومت کے مابین یہ کشمکش جاری ہے، اور اب سب کی نظریں اس سال کے آخر میں متوقع ان قانونی فیصلوں پر ہیں جو امریکی بچوں کی صحت اور ویکسین پالیسی کا مستقبل طے کریں گے۔

