Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      نیویارک، لاگارڈیا ائیرپورٹ پر جیٹ طیارے کی فائربریگیڈ ٹرک کو ٹکر، پائلٹ، کوپائلٹ ہلاک

      راس لفان بحران:”جنگ ختم ہو بھی گئی تو گیس نہیں ملے گی”: توانائی کے ماہرین کے ہوش رُبا انکشافات

      پنجاب میں پہلا سکل سٹی پراجیکٹ قائم کرنے کا فیصلہ

      "جنگ کا جواز ہی جھوٹ نکلا”:جوئے کینٹ کا استعفیٰ اور تلسی گبارڈ کی گواہی: کیا ڈونلڈ ٹرمپ کو مواخذے (Impeachment) کا سامنا کرنا پڑے گا؟

      "ٹرمپ کا وار الٹا پڑ گیا”: وائس آف امریکا میں بڑے پیمانے پر برطرفیاں غیر قانونی قرار، 1000 ملازمین کی واپسی!

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      ایران کے سابق صدر احمدی نژاد منظر عام پر آگئے

      دبئی ائیرپورٹ پر میزائل حملہ ، 4 زخمی

      مناما،امریکی پانچواں فلیٹ سروس سینٹر کا تازہ ترین ایرانی حملے کے بعد مکمل صفایا

      ابوظہبی ، ایرانی میزائل حملے کے بعد خوف وہراس،ایک ہلاک، شہری پناہ لینے پر مجبور

      بنگلہ دیش کے نومنتخب وزیراعظم طارق رحمان کی مسلح افواج کے سربراہان سے ملاقات

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    تیل کی آگ، عالمی معیشت ڈگمگا گئی: مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے دنیا کو 1973 سے بھی بڑے ’قیامت خیز‘ بحران میں دھکیل دیا!

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    ریاض،دوحا،تہران،دبئی ،لندن، نیویارک،ٹوکیو:مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے عالمی توانائی کے نظام کے لیے ایک ایسی ’ڈراؤنی صورتحال‘ پیدا کر دی ہے جس کے نتیجے میں سپلائی میں اس قدر کمی واقع ہوئی ہے کہ دنیا بھر کے صارفین کو اب نہ صرف ایندھن کی بھاری قیمتیں ادا کرنا پڑ رہی ہیں بلکہ اپنی کھپت میں بھی شدید کٹوتی کرنی پڑ رہی ہے۔
    غیرملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے ایرانی ساحل کے ساتھ واقع تزویراتی طور پر اہم ’آبنائے ہرمز‘ کی عملی بندش نے دنیا کے 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل روک دی ہے۔
    دوسری جانب میں اسرائیل اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے کی توانائی کی تنصیبات پر مسلسل حملوں نے گیس فیلڈز، آئل ریفائنریز اور ٹرمینلز کو وہ نقصان پہنچایا ہے جس کے بارے میں صنعت کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اسے ٹھیک کرنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) پہلے ہی اسے تاریخ کا بدترین عالمی توانائی بحران قرار دے چکی ہے جو سنہ 1973 کے عرب تیل بائیکاٹ سے بھی زیادہ سنگین ہے جس نے ماضی میں ایندھن کی قلت اور وسیع معاشی نقصان پہنچایا تھا۔
    پیکرنگ انرجی پارٹنرز کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر ڈین پیکرنگ کا کہنا ہے کہ ’آپ صرف بچت کر کے اس بحران سے نہیں نکل سکتے بلکہ اب قیمتیں اس قدر بلند ہو جائیں گی کہ لوگ خود بخود استعمال بند کر دیں گے۔‘
    اب تک اس بحران نے مارکیٹ سے قریباً 40 کروڑ بیرل تیل نکال دیا ہے جو کہ دنیا کی چار دن کی سپلائی کے برابر ہے اور اس کے نتیجے میں قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
    تیل اور گیس کی یہ قلت نہ صرف گاڑیوں اور طیاروں کے ایندھن بلکہ گھروں کی بجلی، پلاسٹک اور کھاد کی تیاری کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
    توانائی کی قیمتوں میں اس زلزلے نے مہنگائی کو ہوا دی ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بڑی سیاسی مشکل بن گئی ہے کیونکہ وہ امریکی عوام کے سامنے اس جنگ کے جواز پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں پر اس جنگ میں تعاون نہ کرنے پر تنقید کرتے ہوئے انہیں ’بزدل‘ قرار دیا ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، جبکہ ایشیائی معیشتوں کے لیے اہم مشرقِ وسطیٰ کے خام تیل کی قیمتیں 164 ڈالر کی ریکارڈ سطح تک جا پہنچی ہیں۔
    اس صورتحال نے دنیا بھر کی حکومتوں کو ہنگامی اقدامات پر مجبور کر دیا ہے۔
    تھائی لینڈ نے سرکاری ملازمین کو بیرون ملک سفر معطل کرنے اور لفٹ کے بجائے سیڑھیاں استعمال کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ بنگلہ دیش نے اپنی یونیورسٹیاں بند کر دی ہیں۔ سری لنکا میں ایندھن کی راشننگ شروع ہو چکی ہے اور برطانیہ میں گاڑیوں کی رفتار کم کرنے کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔
    بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے گھر سے کام کرنے اور فضائی سفر سے گریز کرنے کی تجاویز بھی دی ہیں کیونکہ جنگ کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ کے اہم فضائی مراکز پہلے ہی بند ہو چکے ہیں۔
    معاشی ماہرین کے مطابق یہ بحران صرف توانائی تک محدود نہیں بلکہ عالمی غذائی تحفظ کے لیے بھی بڑا خطرہ بن گیا ہے۔
    دنیا کی ایک تہائی کھاد کی تجارت آبنائے ہرمز کے راستے ہوتی ہے جو اب رک چکی ہے، جس کی وجہ سے یوریا جیسی اہم کھادوں کی قیمتیں 40 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔
    اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے ماہرِ معاشیات میکسیمو ٹوریرو نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ تنازع مزید چند ہفتے جاری رہا تو عالمی سطح پر اناج، مویشیوں کی خوراک اور ڈیری مصنوعات کی پیداوار میں شدید کمی واقع ہو گی۔

    Related Posts

    پاکستانی اوپنر صاحبزادہ فرحان کےنام بڑا عالمی اعزاز

    ٹرمپ کا ’تباہ کن‘ الٹی میٹم، ایران کی جوابی دھمکی :خام تیل کی قیمتوں میں آگ لگ گئی، ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں کریش

    یوم پاکستان پر عمران خان کی پمز اسپتال آمد

    مقبول خبریں

    پاکستانی اوپنر صاحبزادہ فرحان کےنام بڑا عالمی اعزاز

    ٹرمپ کا ’تباہ کن‘ الٹی میٹم، ایران کی جوابی دھمکی :خام تیل کی قیمتوں میں آگ لگ گئی، ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں کریش

    تیل کی آگ، عالمی معیشت ڈگمگا گئی: مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے دنیا کو 1973 سے بھی بڑے ’قیامت خیز‘ بحران میں دھکیل دیا!

    یوم پاکستان پر عمران خان کی پمز اسپتال آمد

    پی ایس ایل11 کے ترمیم شدہ شیڈول کا اعلان، اب میچز کہاں کھیلے جائیں گے؟کون دیکھ سکے گا؟

    بلاگ

    عید پر حقیقی خوشی حاصل کرنے کا طریقہ

    سرحدوں سے آگے جنگ پاکستان ایک فیصلہ کن موڑ پر

    ”جنگ گلے پڑ گئی“ میاں حبیب کا کالم

    Lady Behind the Transformation of Public Health Practice

    ڈاکٹر یا ڈاکو: کمیشن کے الزام، مہنگے ٹیسٹ اور سرکاری اسپتال سے نجی کلینک تک کا راستہ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.