Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      مصنوعی ذہانت بڑا خطرہ،عالمی ٹیک باباؤں نے گھنٹی بجا دی: ا اے آئی کی ترقی کی رفتار سست کرنے کا مطالبہ

      اسمارٹ ٹی وی استعمال کرنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری: یوٹیوب نے انتہائی مفید فیچر متعارف کرا دیا

      موجودہ حکومت کے آئی پی پیز کے ساتھ 30 اور 40 سال کے نئے معاہدوں کا انکشاف

      ایک کروڑ سے زائد پاکستانیوں کا خفیہ ڈیٹا لیک: ’منی نادرا‘ چلا کر شہریوں کی نجی معلومات بیچنے والا خطرناک گروہ گرفتار

      مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی: مائیکروسافٹ نے تاریخ کی سب سے بڑی سیکیورٹی اپ ڈیٹ جاری کر دی،

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    تیل کی آگ، عالمی معیشت ڈگمگا گئی: مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے دنیا کو 1973 سے بھی بڑے ’قیامت خیز‘ بحران میں دھکیل دیا!

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    ریاض،دوحا،تہران،دبئی ،لندن، نیویارک،ٹوکیو:مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے عالمی توانائی کے نظام کے لیے ایک ایسی ’ڈراؤنی صورتحال‘ پیدا کر دی ہے جس کے نتیجے میں سپلائی میں اس قدر کمی واقع ہوئی ہے کہ دنیا بھر کے صارفین کو اب نہ صرف ایندھن کی بھاری قیمتیں ادا کرنا پڑ رہی ہیں بلکہ اپنی کھپت میں بھی شدید کٹوتی کرنی پڑ رہی ہے۔
    غیرملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے ایرانی ساحل کے ساتھ واقع تزویراتی طور پر اہم ’آبنائے ہرمز‘ کی عملی بندش نے دنیا کے 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل روک دی ہے۔
    دوسری جانب میں اسرائیل اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے کی توانائی کی تنصیبات پر مسلسل حملوں نے گیس فیلڈز، آئل ریفائنریز اور ٹرمینلز کو وہ نقصان پہنچایا ہے جس کے بارے میں صنعت کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اسے ٹھیک کرنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) پہلے ہی اسے تاریخ کا بدترین عالمی توانائی بحران قرار دے چکی ہے جو سنہ 1973 کے عرب تیل بائیکاٹ سے بھی زیادہ سنگین ہے جس نے ماضی میں ایندھن کی قلت اور وسیع معاشی نقصان پہنچایا تھا۔
    پیکرنگ انرجی پارٹنرز کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر ڈین پیکرنگ کا کہنا ہے کہ ’آپ صرف بچت کر کے اس بحران سے نہیں نکل سکتے بلکہ اب قیمتیں اس قدر بلند ہو جائیں گی کہ لوگ خود بخود استعمال بند کر دیں گے۔‘
    اب تک اس بحران نے مارکیٹ سے قریباً 40 کروڑ بیرل تیل نکال دیا ہے جو کہ دنیا کی چار دن کی سپلائی کے برابر ہے اور اس کے نتیجے میں قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
    تیل اور گیس کی یہ قلت نہ صرف گاڑیوں اور طیاروں کے ایندھن بلکہ گھروں کی بجلی، پلاسٹک اور کھاد کی تیاری کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
    توانائی کی قیمتوں میں اس زلزلے نے مہنگائی کو ہوا دی ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بڑی سیاسی مشکل بن گئی ہے کیونکہ وہ امریکی عوام کے سامنے اس جنگ کے جواز پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں پر اس جنگ میں تعاون نہ کرنے پر تنقید کرتے ہوئے انہیں ’بزدل‘ قرار دیا ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، جبکہ ایشیائی معیشتوں کے لیے اہم مشرقِ وسطیٰ کے خام تیل کی قیمتیں 164 ڈالر کی ریکارڈ سطح تک جا پہنچی ہیں۔
    اس صورتحال نے دنیا بھر کی حکومتوں کو ہنگامی اقدامات پر مجبور کر دیا ہے۔
    تھائی لینڈ نے سرکاری ملازمین کو بیرون ملک سفر معطل کرنے اور لفٹ کے بجائے سیڑھیاں استعمال کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ بنگلہ دیش نے اپنی یونیورسٹیاں بند کر دی ہیں۔ سری لنکا میں ایندھن کی راشننگ شروع ہو چکی ہے اور برطانیہ میں گاڑیوں کی رفتار کم کرنے کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔
    بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے گھر سے کام کرنے اور فضائی سفر سے گریز کرنے کی تجاویز بھی دی ہیں کیونکہ جنگ کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ کے اہم فضائی مراکز پہلے ہی بند ہو چکے ہیں۔
    معاشی ماہرین کے مطابق یہ بحران صرف توانائی تک محدود نہیں بلکہ عالمی غذائی تحفظ کے لیے بھی بڑا خطرہ بن گیا ہے۔
    دنیا کی ایک تہائی کھاد کی تجارت آبنائے ہرمز کے راستے ہوتی ہے جو اب رک چکی ہے، جس کی وجہ سے یوریا جیسی اہم کھادوں کی قیمتیں 40 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔
    اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے ماہرِ معاشیات میکسیمو ٹوریرو نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ تنازع مزید چند ہفتے جاری رہا تو عالمی سطح پر اناج، مویشیوں کی خوراک اور ڈیری مصنوعات کی پیداوار میں شدید کمی واقع ہو گی۔

    Related Posts

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے بچے کو تشدد کا نشانہ بنانے والے با اثر چودہری کے خلاف نوٹس لے لیا

    سابق وزیر صدیق احمد 63 برس کی عمر میں کینسر سے انتقال کرگئے

    نئے صوبوں کا قیام : پارلیمنٹ ہی حتمی فیصلہ کرے گی، رانا ثناء اللہ

    مقبول خبریں

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے بچے کو تشدد کا نشانہ بنانے والے با اثر چودہری کے خلاف نوٹس لے لیا

    سابق وزیر صدیق احمد 63 برس کی عمر میں کینسر سے انتقال کرگئے

    نئے صوبوں کا قیام : پارلیمنٹ ہی حتمی فیصلہ کرے گی، رانا ثناء اللہ

    ایف آئی اے امیگریشن ملتان کی بڑی کارروائیاں، 7 مسافر گرفتار

    مصنوعی ذہانت بڑا خطرہ،عالمی ٹیک باباؤں نے گھنٹی بجا دی: ا اے آئی کی ترقی کی رفتار سست کرنے کا مطالبہ

    بلاگ

    سی سی پی او پشاور میاں سعید اور جنسی تشدد میں ملوث ملزمان کی ہلاکت

     عجیب و غریب ڈیمانڈیں  بروقت نکاح میں رکاوٹیں

    آل پاکستان لودھرا برادری کا سرمایہء افتخار ملک محمد عرفان گہرائی لودھرا

    چھوٹے شہروں کے صحافی کیوں نظر انداز ہوتے ہیں؟

       مشرق وسطیٰ کا نیا طوفان: حوثی باغی کیوں خونریز حملے کر رہے ہیں اور اس میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.